خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 578 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 578

خطبات طاہر جلد 13 578 خطبہ جمعہ فرمودہ 5 /اگست 1994ء نہیں رہے گی اگر اس حقیقت کو بھلا دیں گے تو آپ تماش بینوں میں شمار ہونے لگیں گے اور یہی ڈر تھا مجھے جو چند دن لاحق رہا اور اسی لئے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ جمعہ پر میں جماعت کو خوب اچھی طرح سمجھا دوں کہ ایسے واقعات جو رونما ہوتے رہے ہیں پہلے بھی اور آئندہ بھی ہوں گے ان کی لذت کو تماش بینی کی لذت میں تبدیل نہ ہونے دینا ورنہ بہت بڑے نقصان کا سودا کر رہے ہو گے۔اگر یہ ظاہری ہنگامے، یہ شور، یہ ٹیلیفون کے قصے یہ ظاہری صورت میں ہی آپ کو لطف دے رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ اس سے بہت زیادہ ہنگامے اور حیرت انگیز جذبات کا زیر و بم، ایسے بیہودہ اور ذلیل گانوں کے تعلق میں بھی دکھائی دیتا ہے جن کی کوئی بھی حیثیت نہیں ، کوئی بھی حقیقت نہیں۔دنیا کے عظیم معاملات سے ان کا دور کا بھی تعلق نہیں۔”پاپ میوزک“ کا آج کل شور ہے۔”پاپ سنگر دنیا میں مشہور ہورہے ہیں ایسے ایسے پاپ سنگر ہیں جن کے گانوں پر بعض دفعہ ایک ایک کروڑ آدمی یا اس سے بھی زیادہ دس دس لاکھ تو ان کی موجودگی میں ان کے سروں پر پاگل ہو رہا ہوتا ہے اور ٹیلی ویژن کے ذریعے کروڑ بلکہ کروڑوں ایسے ہوں گے جو دیکھتے ہیں اور سر دھنتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کو عجیب روحانی سرور حاصل ہوا ہے، تو ہم تو ایسے سطحی لوگ نہیں ہو سکتے۔یہ جو نظارہ تھا یہ ان نظاروں کے مقابل پر جو آپ ایسے پاپ سنگر کی کامیابی کی صورت میں دیکھتے ہیں دنیا والوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں۔وہ کہتے ہیں چند ٹیلیفون کالز آ گئیں تو کیا فرق پڑ گیا۔لیکن جس طرح میں آپ کو جس گہرائی کے ساتھ اس کی حقیقت بتارہا ہوں کہ یہ تو ایک عجیب نظارہ ہے ایسا نظارہ جس نے کل عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا ہے اور یہیں پر بس نہیں کی بلکہ اس تمام عالم کو اس اولین کے عالم سے جا ملایا ہے جو چودہ سو سال پہلے ظہور میں آیا تھا۔دیکھیں کتنی عظمت اس واقعہ کی ایک نئی شان کے ساتھ ابھرتی ہے اور یہ واقعہ صرف زمانے میں نہیں پھیلتا، موجودہ زمانے میں نہیں پھیلتا بلکہ گزشتہ زمانوں سے پیوست ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ پھر آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس ہمارا وجود ا یک روحانی وجود ہے اور اس کی لذتیں بھی ہمیشہ روحانی رہنی چاہئیں اور روحانی رکھنے کے لئے جد و جہد کی ضرورت پڑے گی ورنہ بسا اوقات ایسی عظیم کا میابیاں آئندہ ہمارے قدم چومنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں کہ ہمارے نفسوں کو دھوکے میں ڈال دیں گی ہمارے سروں میں کبھی پیدا کر دیں گی بجائے