خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 577 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 577

خطبات طاہر جلد 13 577 خطبہ جمعہ فرمودہ 5 راگست 1994ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا احسان ہے کہ آپ نے بھی دعاؤں اور درود کی برکت سے وہ مرتبہ پا لیا وہ فیض پالیا کہ آپ کی پرورش میں آنے والے آپ کے پروں اور اس کے سائے تلے پنپنے والے اور نشو و نما پانے والے وہ آخرین جن کا اولین سے چودہ سو سال کا فرق تھا خدا تعالیٰ نے ان کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کا فیصلہ فرمالیا اور قرآن میں یہ خوشخبری رکھ دی کہ آخرین ایسے ہوں گے جو اولین سے ملائے جائیں گے۔یہ عجیب دور ہے ہم اس خوشخبری کو نہ صرف اپنی ذات میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں بلکہ ایک ایسا تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں جو تاریخ بنانے والے ہیں تاریخ کا پھل نہیں ہیں۔ہمارے ذریعے تاریخ بنائی جا رہی ہے اور وہ تاریخ جس کا ہم پھل ہیں وہ محمد رسول اللہ اللہ نے صلى الله بنائی تھی۔پس آئندہ بھی جو تاریخ ہمارے لئے ذریعے بنے گی وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی تاریخ ہے گویا ہمارے واسطے سے اس تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔یہ وہ حقیقت ہے جس کی طرف میں نے مختصراً اشارہ کیا تھا کہ اس حقیقت کو پیش نظر رکھ کر لطف اندوز ہوں۔اگر آپ اس حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں گے تو جتنی بھی آپ کی کامیابیاں ہیں وہ ساری کامیابیاں ایسی سعادتیں نظر آئیں گی جن کے ہم حق دار نہیں تھے وہ ایسے سہرے نظر آئیں گے جو پہلوں کے سروں پر باندھے جانے کے لائق تھے انہی کے فیض سے انہی کی برکت سے ہمارے نصیبوں میں آئے جبکہ ہم حقیقت میں اس لائق نہیں کہ ان کامیابیوں اور ان سہروں کے حقدار قرار دیئے جائیں۔یہ وہ حقیقت ہے جو میں نے ہمیشہ اپنی ذات میں محسوس کی ہے ایک ذرہ بھی اس میں مبالغہ نہیں۔میں اپنے وجود کو، اپنی حقیقت کو جانتا ہوں۔جماعت احمدیہ کو جو کچھ بھی فیض مل رہا ہے بلاشبہ ایک ذرہ بھی اس میں شک نہیں نہ آپ آئندہ کبھی کریں کہ اولین کی دعاؤں اور برکتوں کا فیض ہے جو آخرین میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے جاری ہوا ہے۔ہر کامیابی ان کی ہے اور ہمیں ان کامیابیوں میں جو ذریعہ بنایا گیا ہے یہ ہماری سعادت ہے پس سعادت پر شکر گزار ہوں اور حد سے زیادہ شکر گزار بندے بنے کی کوشش کریں۔حد سے زیادہ کا لفظ غلط ہے، حد سے زیادہ سے مراد میری شاید یہ تھی کہ ہماری حدیں جو چھوٹی چھوٹی حدیں ہیں ان کو پار کرنے کی کوشش کریں۔شکر اتنا کریں کہ اپنی حدود توڑ دیں تب بھی شکر کا حق ادا نہیں ہو سکے گا۔اگر اس صورت حال کو اس حقیقت کے ساتھ جیسے میں بیان کر رہا ہوں سمجھ کر پھر خدا کا شکر ادا کریں گے تو آپ کا لطف کچھ اور قسم کا لطف ہو جائے گا۔یہ تماش بینی