خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد 13 576 خطبہ جمعہ فرموده 5 راگست 1994ء فتوحات دیکھتا تھا کبھی مغرب کی فتوحات دیکھتا تھا۔(مسنداحم جلد 4 صفحہ: 303) تین ایسی خوشخبریاں تھیں جن کا ترتیب کے ساتھ مجھے لفظاً لفظاً ذکر یاد نہیں رہا اس لئے میں اس سے احتراز کر رہا ہوں۔مگر بنیادی طور پر یہ بات ہے اس انتہائی کمزوری کی حالت میں جبکہ دفاع کے لئے بھو کے خندق کھودرہے تھے آنحضرت قیصر و کسریٰ اور یمن کے قلعوں کی فتوحات کے نظارے دیکھ رہے تھے۔ایسی حالت میں اگر دشمن آپ کو مجنون کہتا تھا تو ان کے لئے اس کے سوا کوئی لفظ نہیں تھا۔ایسی باتیں یا مجنون کیا کرتے ہیں یا سب سے زیادہ صادق اور سب سے زیادہ باشعور انسان جو اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔پس ان کی اندھی آنکھوں نے آنحضرت ﷺ کا اصلی مقام تو نہیں دیکھا مگر جو فتویٰ دیا ہے وہ ان دو کے سوا کسی پر لگ نہیں سکتا۔ایسی حالت میں جو انسان بلند بانگ دعاوی کرے اور یہ کہے کہ میں قیصر و کسریٰ کی فتح کے خواب دیکھ رہا ہوں یا اس کے نظارے مجھے دکھائی دے رہے ہیں یا ان کے محلات کی چابیاں مجھے عطا کی جارہی ہیں ایسے شخص کو دنیا یا تو پاگل کہے گی یا پھر اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ ، چنیدہ، بھیجا ہوا رسول، ایسا نبی جس سے خدا خود پیار کی باتیں کرتا ہے، جسے خود آسمان سے خوشخبریاں عطا کرتا ہے ان دو انتہاؤں کے بیچ میں اور کوئی مقام نہیں ہے۔پس انہوں نے تو بہر حال اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ناممکن بات ہے پس ان کے مجنون کہنے میں بھی حقیقت میں ایک بہت بڑا اعتراف حق ہے اور آئندہ زمانوں میں کام آنے والا اعتراف حق تھا۔ایسی صورت تھی کہ دنیا والے کی نظر میں وہ باتیں ناممکن تھیں ، ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ ان باتوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور ایک ایک بات اللہ نے ان لوگوں کے دیکھتے دیکھتے ، ان کی زندگیوں میں پوری کر دکھائی۔کچھ ایسے وعدے تھے جن کا آخرین سے تعلق تھا اس دور سے تعلق تھا جس دور میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں تمام عالم کومحمد رسول اللہ ﷺ کے لئے فتح کرنے کے لئے کھڑا کر دیا ہے۔ہم اس سے بہت زیادہ عاجز ہیں جو خدا کے عاجز بندے محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ان سے بہت زیادہ کمزور ہیں جو خدا کے کمزور بندے محمد رسول اللہ ہے کے اس وقت صلى الله ساتھ تھے۔کیونکہ ان کی طاقت کے پیمانے اور تھے اور وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی قوت سے براہ راست فیض پا کر قوی ہوئے تھے۔ہمارے درمیان چودہ صدیاں حائل ہیں اور اس کے باوجود حضرت