خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 575 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 575

خطبات طاہر جلد 13 575 خطبه جمعه فرموده 5 اگست 1994ء ہوں غار ثور کی بات بھی کرتا تو منہ سے حراہی نکلتا تھا کیونکہ اسلام کا سورج حرا سے طلوع ہوا ہے اور ثور میں عارضی طور پر چھپا تھا جیسے بدلی اس پر سایہ ڈالے مگر یہ جو وجہ ہے یہ پہلی دفعہ نہیں پہلے بھی کئی دفعہ ہو چکا ہے اس لئے فوری طور پر چٹ لکھ کے مجھے یہ بتا دیا کریں جب میں ثور کی بات کروں اور حرا کہہ رہا ہوں اس وضاحت کے بعد حضور نے خطبہ کا مضمون جاری رکھتے ہوئے فرمایا: بہر حال غار ثور کا واقعہ ہے وہاں آنحضرت ﷺ نے پناہ لے رکھی تھی اور آئندہ بھی آپ کی زندگی ( یعنی آئندہ سے مراد اس وقت سے لے کر آگے تک ) ہر کمزوری کی حالت میں آپ کو عظیم الشان وعدے دیئے گئے ہیں۔ایک وقت وہ تھا جب کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ خندق کھود نے میں مصروف تھے اور ایسی کمزوری کی حالت تھی کہ یہ ڈر تھا کہ اگر خندق کی تیاری سے پہلے دشمن آ جائے تو مدینے والوں کے دفاع کی کوئی صورت باقی نہیں تھی اور بڑا بھاری دشمن تمام قبائل کا لشکرکشی کر رہا تھا اور قریب سے قریب تر آ رہا تھا۔تمام صحابہ دن رات محنت کر کے خندق کھودرہے تھے۔لیکن مشکل یہ آپڑی کہ ایک پتھر رستے میں حائل ہو گیا اگر وہ نہ توڑا جاتا تو وہ خندق چل نہیں سکتی تھی۔جب سب زیادہ سے زیادہ ނ طاقتور اور قوی ہاتھ بے کار ہو گئے اور اس پتھر کو نہ توڑ سکے۔اس وقت حضرت اقدس محمد رسول الله الا الله درخواست کی گئی کہ یا رسول اللہ اللہ آپ آب اس پتھر پر ضرب لگا ئیں اور اس وقت آنحضرت یا اللہ کی کمزوری کا یہ عالم تھا یعنی جسمانی کمزوری کا کہ بھوک کی شدت سے اس وقت صحابہ پیٹ پر پتھر باند ھے پھر صلى الله رہے تھے۔کسی نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ تو حالت ہے دیکھیں پتھر باندھے ہوئے ہیں آنحضور ﷺ نے اپنے بطن مبارک سے کپڑا اٹھایا تو دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔یعنی سب سے زیادہ بھوک کی تکلیف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو تھی۔(مسند احم جلد 4 صفحہ 303) اس وقت جب آپ نے اس آلے سے وار کیا ہے جونو کدار گینتی کہلاتی ہے شاید۔اس سے جب پتھر پہ ضرب لگائی اس سے ایک چنگارا اٹھا تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔پھر ایک اور ضرب لگائی پھر ایک چنگارا اٹھا پھر ایک اور ضرب لگائی پھر ایک اور چنگارا اٹھا اور پتھر دو نیم ہو گیا اور وہ روک جاتی رہی۔اس وقت صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ نعرہ الله کیوں لگاتے تھے ساتھ جب شعلہ بلند ہوتا تھا۔تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے اس شعلے میں کبھی یمن کے قلعوں کی چابیاں پکڑا ئیں ،کبھی میں ان شعلوں میں مشرق یعنی اہل فارس کی