خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 564 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 564

خطبات طاہر جلد 13 564 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء تھا کہ بات سنتے تھے اور غصہ آ جاتا تھا اور غضب آلود نگاہیں ڈال ڈال کر ڈرانے کی کوشش کرتے تھے۔وہ کہتے تھے یہ شخص تو محض دیوانہ ہے اگر دیوانہ ہے تو دیوانے کی بڑپر غصہ کس بات کا آتا ہے؟ پھر فرمایا وَ اِذَا رَاَوكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا اَهَذَا الَّذِي بَعَثَ اللهُ رَسُولاً (الفرقان :42) کہ جب تجھے دیکھتے ہیں تو تمسخر اور ٹھٹھوں کا نشانہ بنالیتے ہیں، جب دیکھتے ہیں تیرا مذاق اڑاتے ہیں اور بات اس طرح کرتے ہیں اَهَذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا دیکھو دیکھو یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے! کیسا تکبر،کیسی تحقیر اور ان سب گستاخیوں کا ذکر کرتے کرتے ایک جگہ بھی اللہ تعالی تلوار پکڑ کر ان کے سراڑانے کی تعلیم نہیں دے رہا۔مولویوں کے کان میں اگر کسی نے پھونک دیا تو وہ اللہ نہیں ہے جس نے محمد رسول اللہ پر کلام نازل فرمایا تھا کوئی اور روح ہے جو یہ باتیں پھونک رہی ہے کیونکہ اس خدا کو اس وقت یاد نہیں تھا کہ آئندہ زمانوں میں گستاخی کی سزا موت اور موت کے سوا کوئی مقرر نہیں کرنی اور وہ بھی انسانی ہاتھوں سے۔پس قرآن کے نزول کے وقت تو اللہ تعالیٰ کو یہ باتیں یاد نہیں اب مولویوں کو کہاں سے بجھائی دے گئیں۔صاف پتا چلتا ہے کہ کوئی اور چیز ہے جو ان کے کانوں میں یہ باتیں گھول رہی ہے یا پھونک رہی ہے۔پھر فرمایا: وَلَقَدِ اسْتَهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِرُونَ (الانبیاء : 42) اور یقیناً تجھ سے پہلے بھی تمام رسولوں کی تضحیک کی گئی۔پس جس چیز سے وہ تضحیک کیا کرتے تھے اس تضحیک نے خود ان کو گھیرے ڈال لئے یعنی خدا کی تقدیر نے ان سے سزا دینے کے لئے وہ ساری باتیں ان کے خلاف پیدا کر دیں جو انبیاء کے خلاف وہ استعمال کیا کرتے تھے۔وَإِذَا رَاكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا اَهُذَا الَّذِي يَذْكُرُ الهَتَكُم (الانبیاء: 37) کہ یہ لوگ جب تجھے دیکھتے ہیں تجھ سے مذاق کرتے ہیں ٹھٹھا کرتے ہیں اور باتیں اس طرح کرتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جو ہمارے معبودوں کے تذکرے کرتا ہے دیکھو دیکھو اس کی صورت دیکھو! کیا یہ سب عزت افزائی کے کلمات ہیں؟ اگر نہیں تو قرآن کریم نے کہاں ان کی سزا مقررفرمائی اور ان سب باتوں کو سن کر حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے خود کیا نمونہ دکھایا۔یہ آیات تو مسلسل ایک سلسلہ ہے تمام انبیاء کی تضحیک کا تذکرہ ایک طرف اور حضرت اقدس محمدﷺ کے