خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 560
خطبات طاہر جلد 13 560 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء ہم اطاعت کریں جبکہ ان کی قوم ہماری عبادت کر رہی ہے۔عبدُونَ کا مطلب غلام ہے اور چونکہ اس میں عبادت کا مفہوم بھی ہے تو غلامی اس حد تک پہنچ جائے کہ گویا کسی مالک کی کسی آقا کی پرستش شروع ہو جائے۔یہ دونوں مضمون اس ایک لفظ میں داخل ہیں۔ہمارے غلام ، ہمارے نوکر چاکر ، ان کی مجال کیا ہے؟ یہ تو گویا ہماری عبادت کرتے ہیں اور ان لوگوں میں سے یہ موسیٰ ہو اور ہارون، اور ہم ان کی اطاعت کرنی شروع کر دیں یہ کیسے ممکن ہے؟ حضرت شعیب کے متعلق قَالُوا إِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ وَى مُسَحْرِين کا الزام جو حضرت صالح پر لگایا گیا تھا شعراء آیت 185 میں درج ہے کہ حضرت شعیب پر بھی لگایا گیا۔الشعراء 187 میں ہے وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَذِبِينَ ہم تو سوائے اس کے کچھ نہیں جانتے کہ تو یقیناً جھوٹا ہے۔انبیاء پر الزام کی تو یہ داستان ہے۔انبیاء کے مقدس خاندان، اہلِ بیت سے تعلق رکھنے والوں اور ان کی ماؤں پر بھی تو الزام لگائے گئے اور وہ بھی ایسی چیز ہے جس سے بہت اشتعال پیدا ہوتا ہے۔عام دنیا دار، اللہ کی ہتک پر اتنے مشتعل نہیں ہوا کرتے جتنے اپنے انبیاء اور ان کے رشتے داروں کی گستاخی پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔تو ایک طرف تو عیسائیوں کا وہ عقیدہ بیان کیا گیا جو موحدین کو مشتعل کرنے والا تھا۔اب یہودی موحدین کا وہ عقیدہ بیان کیا جا رہا ہے جو عیسائیوں کے لئے جائز وجہ اشتعال رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے کسی سزا کا کوئی اعلان نہیں فرمایا وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ( النساء: 157 ) کہ یہود ایسے ظالم لوگ ہیں کہ صرف کفر نہیں کیا بلکہ مسیح کی ماں پر نہایت ناپاک الزام لگایا جس کے نتیجے میں مسیح بھی ایک جائز انسان کہلانے کا مستحق نہیں رہا۔کیا یہ ہتک عزت نہیں ہے؟ کیا یہ رسول اور اس کی ماں اور ان دونوں کی ایسی ہتک نہیں ہے کہ اگر کوئی سزا مقرر ہونی چاہئے تو یہاں اعلان ہو جانا چاہئے تھا کہ اس کی یہ سزا ہے ! تو پھر تم ان باتوں کو کس کھاتے میں ڈالو گے؟ کیسے ان آیات کے ہوتے ہوئے ان قوموں سے سلوک کرو گے؟ اگر اپنی من مانی کرنی ہے تو ہر ہتک کے نتیجے میں قتل لازم ہے اس لئے اگر تقویٰ کا ادنی سا بھی شائبہ تمہارے اندر پایا جاتا ہے تو اس اعلان کے بعد ایک طرف عیسائیوں کے قتل وغارت کے لئے تلواریں سونت لو اور نکل کھڑے ہو دوسری طرف یہود کو فنا کرنے کے لئے ان پر حملہ آور ہو جاؤ اور یہ نہ دیکھو کہ اس راہ میں