خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 559

خطبات طاہر جلد 13 559 خطبہ جمعہ فرمود و 29 جولا ئی 1994ء قَالُوا مَجنُونَ وَازْدَجِرَ (القمر (10) که یه شخص مجنون ہے اور ایسا دھتکارا ہوا ہے جو چاہے اس کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کا سلوک کرے اسے ذلیل ورسوا کرے، کھلی چھٹی ہے۔حضرت نوح کے متعلق کہا اِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةٌ (المومنون : 26) إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةٌ اس کو تو جن چڑھ گیا ہے اور جن چڑھنا، شیطان چڑھنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا الهَتَكُمُ (الانبیاء : 69) کہ یہ ایسا شخص ہے کہ اس کی سزا آگ میں جلائے جانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔اگر تم اپنے معبودوں کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو آگ میں جلا دو۔یہ عزت افزائی کے کلمات ہیں جو قرآن کریم نے ابراہیم کے واقعات میں بیان فرمائے ہیں؟ پھر لوط کے متعلق کہا قَالُوا لَبِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يَلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ (الشعراء: 168) انہوں نے لوظ سے کہا کہ اگر تو باز نہیں آئے گا تو ہم تجھے ضرور دیس سے نکال دیں گے اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے۔اور حضرت صالح سے کہا قَالُوا إِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَخَرِينَ (الشعراء: 154) که تجھ پر تو جادو ہو چکا ہے، اپنے ہوش، عقل ٹھکانے نہیں رہے جادو والے سے ہم کیا بات کریں۔پھر مزید اس پر یہ بات بڑھائی بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِر (القر : 26) وہ بہت سخت جھوٹا اور حد سے بڑھا ہوا ہے اپنی بے راہ روی میں۔حضرت ہوڈ کے متعلق الاعراف: 67 میں لکھا ہے قوم نے کہا إِنَّا لَنَرانَكَ فِي سَفَاهَة اے ہو! ہم تو تجھے بہت ہی بیوقوف دیکھ رہے ہیں، پرلے درجے کا احمق انسان ہے وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَذِبِينَ صرف یہی نہیں ایک بیوقوف ،اوپر سے جھوٹا یعنی جیسے کہتے ہیں کریلا اور نیم چڑھا تو کہتے ہیں بیوقوف تو خیر تو ہے ہی ، اوپر سے جھوٹا بھی نکلا ہے۔یہ عزت افزائی کے کلمات مولویوں کے نزدیک ہوں گے کیونکہ ان میں کوئی سزا مقرر نہیں اگر ہتک رسول ہوتی تو سزا بھی تو ہونی چاہئے تھی۔حضرت موسی اور ہارون کے متعلق فرعون نے کہا اور فرعون کی قوم نے: آنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عَبدُونَ (المومنون: 48) کیا ان جیسے عام انسانوں کی