خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 551

خطبات طاہر جلد 13 551 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولا ئی 1994ء وط کرتے تھے، ان کو سمجھایا کرتے تھے کون آگے تکبر سے سر مٹکایا کرتے تھے اور کون تھے جو خدا کی راہ سے روکتے تھے اور باز نہیں آتے تھے اور مسلسل تکبر میں مبتلا ر ہے۔سَوَآءِ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرُ لَهُم برابر ہے ان پر خواہ تو ان کے لئے استغفار کرے یا نہ استغفار کرے۔سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ اگر ان کے دلوں پر مہر لگ گئی تھی تو پھر استغفار سے کوئی ان کو فائدہ پہنچ سکتا تھا ؟ کیا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا استغفار ان کو عذاب سے بچاسکتا تھا؟ صحابہ اپنی خوش فہمی میں یہ کہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں پر ہم مہر کر دیں ان کو کسی نبی کا استغفار بھی بچا نہیں سکتا۔ان کی تقدیر ہمیشہ کے لئے لکھی جا چکی ہے۔آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا برابر ہے ان پر خواہ تو ان کے لئے استغفار کرے یا نہ کرے۔لَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُم اللہ ہر گز کسی صورت میں ان کو معاف نہیں فرمائے گا۔اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِيْنَ اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کی قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔هُمُ الَّذِينَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ایسے شریر لوگ ہیں کہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ جو محمد رسول اللہ کے پاس ان کیساتھ رہنے والے صلى الله ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کیا کرو۔حَتَّى يَنفَضُّوا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ جائیں۔پھر پیسہ دو یعنی لالچ بھی دیتے ہیں کہ اگر تم چھوڑ دو تو ہم تمہیں پیسہ دیں گے، ہم ہر طرح سے تمہاری خدمت کریں گے۔آج کل جرمنی میں بھی یہ مہم چلی ہوئی ہے۔کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بوسنین احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں اور کثرت کے ساتھ وہاں روپیہ پیسہ پھینکا جارہا ہے اور قطعی گواہیاں اس بات کی ہیں کہ سعودی عرب کا پیسہ وہاں پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے کیونکہ بعض مخلصین جو بوسنین ہیں بوسنین میں تبلیغ میں سب سے آگے اور بڑے ہمت والے باوقار انسان ہیں جن کی باتوں کا لوگوں پر اثر پڑتا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ ان کو با قاعدہ پیش کش کی گئی ہے کہ ہم تمہیں اتنے ہزار ماہانہ دیا کریں گے یا اس سے بھی زیادہ اور تم کسی طرح احمدیت کو چھوڑ دو۔انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ میرا ایمان بکاؤ نہیں ہے تم اپنے پیسے اپنے پاس رکھو مگر کسی صورت بھی میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔تو جو اس وقت ہو رہا تھا وہ آج بھی ہو رہا ہے ہم اس کے عینی شاہد ہیں۔پس قرآن کریم کا جو کلام ہے یہ دائمی اثر رکھنے والا ہے۔انسانی فطرت سے تعلق رکھتا ہے۔آغاز آدم سے قیامت کے دن تک کے واقعات انسانی فطرت کے حوالے سے اس میں بیان ہوئے ہیں جن میں کوئی تبدیلی واقع نہیں