خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 543 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 543

خطبات طاہر جلد 13 543 خطبہ جمعہ فرمود و 22 جولائی 1994ء مانگتے ہیں۔اپنے میزبانوں سے یا دوستوں سے اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ بہت مشکل میں پڑگئے ہیں اور بعد میں پھر مجھے مصیبت پڑتی ہے۔سب ان کے شکوے ہمارے اوپر اور یہ آئے تھے اور لے گئے اور وہ آئے تھے اور کھا گئے اور پیسے نہیں مل رہے تو اس لئے میں نے پہلے بھی بارہا اعلان کیا ہے۔میں پھر کرتا ہوں یہاں جلسہ ہو یا امریکہ ہو یا دنیا میں کہیں باہر سے آنے والے ہوں اگر کوئی احمدی جو مسافر ہے اور مسافری کا عذر رکھ کر قرض طلب کرتا ہے تو اس کو نظام جماعت کی طرف Refer کریں یعنی اس کی طرف اس کو توجہ دلائیں کہ یہاں جاؤ اور نظام جماعت اگر مجھے کہے گا تو پھر میں تیار ہوں گا ور نه براه راست مجھے اجازت نہیں ہے۔جن کے ذاتی معاملات اور تعلقات ایسے ہیں کہ وہ اگر قرض دے دیں اور کھایا بھی جائے تو پرواہ نہ ہو ان کا معاملہ الگ ہے وہ بے شک شوق سے کریں ان کا اپنا روپیہ ہے۔چاہے تو جہنم میں پھینک دیں مجھے اس سے کیا غرض ہے، ہاں یہ تکلیف ہوگی کہ جہنم کی بجائے جنت میں بھی پھینک سکتے تھے ، سلسلہ کو چندہ دے سکتے تھے بجائے اس کے کہ ایک کھانے والے کے سپرد کر دیا۔مگر بہر حال وہ پھر مجھے کچھ کہ نہیں سکیں گے لیکن اگر باہر سے آنے والے پیسے مانگتے ہیں اور آپ دے دیتے ہیں اور تحقیق نہیں کرتے یا جماعت سے نہیں پوچھتے اور پھر وہ آپ کو گزند پہنچاتا ہے تو آپ ذمہ دار ہیں آج بھی ، کل بھی ، پرسوں بھی ذمہ دارر ہیں گے۔میں کئی دفعہ یاد دہانیاں کرا کے تھک چکا ہوں۔آپ لوگ مانتے نہیں ہیں، لیکن اچھی طرح اس بات کو ذہن نشین کر لیں۔دوسرے سیکیورٹی کے نظام میں ہر احمدی سیکیورٹی افسر ہے اور یہ بات دنیا کے کسی اور نظام کو حاصل نہیں۔بیدار مغزی کے ساتھ اپنے دائیں بائیں بیٹھے ہوؤں کو دیکھیں، پہچانیں، نہیں جانتے تو مستعدر ہیں، ہوشیار رہیں۔گویا آپ اس کی ہر حرکت کے ذمہ دار بن گئے ہیں۔یہ سیکیورٹی کا نظام ہے لیکن حسن خلق کے ساتھ نظم و ضبط کے ساتھ۔جہاں تک روانڈا کا تعلق ہے میں بارہا جماعت کو نیک تحریکات کرتا ہوں اور بار ہا تو قعات سے بڑھ بڑھ کے جماعت خدمت دین کرتی ہے، لبیک کہتی ہے اور میں پھر بھی نہیں تھکتا، پھر بھی آپ کو بلاتا رہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہمارا کردار ہے اور کردار کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔کسی جگہ بھی ظلم کے زخم لگے ہوں، کسی جگہ بھی لوگ فلاکت زدہ ہوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں تو مومن کا کردار یہ ہے کہ ایسے موقع پر جو کچھ بھی اس کے بس میں ہوضرور کرتا ہے۔اور کا فرکا یہ کردار ہے کہ اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کیا