خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 540
خطبات طاہر جلد 13 540 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 / جولائی 1994ء سب جھوٹے قصے ہیں، فرضی باتیں ہیں۔ان لوگوں کو علم ہونا چاہئے ، ان کے سیاستدان اتنے جاہل اور لاعلم ہیں ان کو پتا ہی نہیں کہ آخر جھگڑا ہے کیا اور حج بیٹھے فیصلے دے رہے ہیں کہ دیکھونا بات یہ ہے کہ اللہ کا شرک تو خیر کوئی بات نہیں وہ ہم برداشت کر لیں گے مگر رسالت کا شرک برداشت نہیں کر سکتے۔جو جاہلوں نے قصے چلائے وہ چل پڑے۔میں نے عدالتوں کے فیصلے دیکھے ہیں صاف نظر آرہا ہے کہ مولوی پہنچتے ہیں اپنے جتھے اٹھا کے اور جوں سے کچھ کہتے ہیں ان بے چاروں کو اپنے دین کا علم کوئی نہیں وہ کہتے ہیں اچھا جی پھر لکھ دو فیصلے ہمارے لئے۔وہ مولویوں کی تحریریں صاف پہچانی جاتی ہیں۔یہ تحریر پہچاننے کا فن تو کوئی مشکل نہیں ہے۔ہزاروں سال کی پرانی کتابوں کے متعلق ماہر فن یہ بتا دیتے ہیں کہ یہ فلاں کی تحریر ہے یہ فلاں کی نہیں ہے اور یہ فلاں جگہ دخل اندازی ہوئی ہوئی ہے۔بائبل کے متعلق بھی اس طرح تحقیق ہے تو ان مولویوں کی تحریریں اور جوں کی تحریریں ایک جیسی تو نہیں ہوتیں بڑا نمایاں فرق ہے اور وہ فرق ان کے فیصلوں میں صاف دکھائی دیتا ہے۔جہاں مولوی کا فیصلہ شروع ہوا ہر احمدی کو سمجھ آ جاتی ہے کہ اب کس کی بات شروع ہوگئی ہے۔جہاں یہ چل رہا ہے وہاں شرک کیا اور گناہ کیا فسق و فجور کیا سب ایک تھیلی کے چٹے بٹے بن جاتے ہیں۔اتنا گناہ بڑھ گیا ہے پاکستان میں کہ اس کا تصور بھی باہر نہیں کیا جاسکتا ایسے ایسے بھیانک جرائم روزانہ نظر کے سامنے آتے ہیں اور ہزاروں لاکھوں ایسے ہوں گے جو نظر کے سامنے نہیں آتے کیونکہ جہاں پولیس بے چاری مجبور اور بے اختیار ہو، پیسے کا انکار کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے اگر شرم ہے تو پیسے کی۔بعض لوگوں کو پیسے کی بڑی شرم ہوتی ہے وہاں پیسے کی بڑی شرم ہے۔باقی شر میں اٹھ گئی ہیں یہ شرم ہے جو بڑی مضبوطی سے قائم ہے اور مولویوں میں بھی یہ بڑی شرم پائی جاتی ہے، پیسے کی بڑی شرم کرتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفتہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غالبا واقعہ ہے کہ ایک مولوی صاحب کے متعلق پتا چلا کہ اس نے نکاح پر نکاح پڑھا دیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول کو اس پر بڑا حسن ظن تھا انتظار کرتے رہے وہاں ملنے کے لئے آیا کرتا تھا تو ملنے آیا تو ان سے پوچھا مولوی صاحب میں تو بڑی آپ کی عزت کرتا تھا آپ تو بڑے متقی ، بزرگ پر ہیز گار انسان یہ میں مان نہیں سکتا کہ یہ واقعہ ہوا ہو میں آپ کے منہ سے سننا چاہتا ہوں کہ جھوٹ ہے۔اس نے کہا جناب میری بات تو سن لیں یک طرفہ بات نہ کرتے چلے جائیں میری بات تو سنیں مجھے موقع تو دیں۔