خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد 13 539 خطبہ جمعہ فرمود و 22 جولائی 1994ء اور کہو کہ شرک فی النبوۃ منظور نہیں، مشرک خود ہو، نبی کے قائل ہو لیکن غیر نبی کے قائل ہو۔اس نبی کے قائل ہو جس کی امت نے سب سے زیادہ اسلام کی رقابت کی ہے، اسلام کے خلاف حسد کیا ہے۔اسے اپنا سردار ماننے کے لئے تیار بیٹھے ہو اور ابھی کہتے ہو شرک فی الرسالت کے ہم قائل نہیں۔شرک فی اللہ کے تو قائل ہیں ہی، وہ تو تم مان بیٹھے ہواب شرک فی الرسالت والا قصہ بھی ساتھ ہو گیا۔نہ وہ رہا نہ وہ رہا۔تمہاری مثال تو اس بے وقوف تیل ڈلوانے والے کی سی بن گئی ہے جو چھوٹا برتن لے کر زیادہ تیل کے پیسے لے کے گھر سے نکلا اور برتن کے پیندے میں بھی تھوڑی سی جگہ بنی تھی کپ الٹا سا بنا ہوتا ہے اس نے جب تیل خریدا تو کچھ تیل چونکہ پیسے زیادہ دے بیٹھا تھا ، بچ گیا تو اس نے اس کو الٹا دیا اور کہا باقی اس طرف ڈال دو۔دکاندار نے کہا ہیں ہیں یہ کیا کرتے ہو وہ تو گر گیا۔اس نے فوراً سیدھا کر دیا اور جو تھا وہ بھی گیا۔ان کے تو شرکوں کا یہ حال ہے وہ بڑا برتن تو خدا والا خودالٹا بیٹھے۔کہہ دیا یہ نہیں ہمیں اس کی پرواہ کوئی نہیں، اللہ کا شرک کیا فرق پڑتا ہے اور وہ جو شرک رسالت تھا وہ بھی ہاتھ سے گیا، وہ معاملہ بھی ہاتھ سے گیا۔ثابت کر بیٹھے ہیں اپنے عمل اور اپنے عقیدوں سے کہ شرک فی الرسول کے اگر قائل ہیں تو یہ قائل ہیں اور جماعت احمدیہ کا بلا استثناء بلا شک یہ عقیدہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے بعد آپ کے غلاموں میں سے خدا کسی کو شرف بخشے تو بخشے غیر کی مجال نہیں ہے کہ امت محمدیہ میں دخل دے۔پس شرک فی الرسالت کس کا ہے اور کس کا نہیں ، کوئی تو عقل کرو مگر جب عقل رہے ہی نہ باقی تو پھر قرآن کے اس فتوے نے صادر ہونا ہی ہونا ہے کہ اپنا بوجھ تم اتار بیٹھے ہو اور گدھوں کی پیٹھوں پہ لا دریا ہے جن کو کچھ پتا نہیں کہ کیا لدا ہوا ہے۔الله پھر امام مہدی کی باتیں کرتے ہیں۔امام مہدی نے کرنا کیا ہے آ کر۔شریعت کامل ہوگئی قرآن غیر مبدل کتاب، حدیث میں صحاح ستہ ایسی ہیں جن پر بہت اعتبار کیا جاسکتا ہے۔کسی نبوت کی تاریخ میں اتنی مستند کتا بیں موجود نہیں جتنی صحاح ستہ ہیں۔پھر تمہیں کیا چاہئے مہدی کے کیوں قائل ہو؟ وہ بہتر فرقوں والی بات کیا ہوئی؟ ہے کیوں اور بٹتے کیوں چلے جا رہے ہوا؟ عملاً ساری امت مشرک بنی بیٹھی ہے یہ سارے حالات سب برداشت ہیں لیکن اگر برداشت نہیں تو یہ عقیدہ برداشت نہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں وہ امام جن کی آپ نے خبر دی ہے جب وہ آئیں تو ان کو ماننا فرض ہے۔یہ عقیدہ ہے جو تکلیف دیتا ہے اس کے سوا کوئی تکلیف نہیں۔پس یہ