خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 529
خطبات طاہر جلد 13 529 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 / جولائی 1994ء جاتی ہے۔احمدیت کے معاملے کو ایک طرف کر کے دیکھ لیجئے پہلے بھی تو کر چکے ہیں۔پھر کب آپ کو مارشل لاء سے نجات ملی تھی۔تاریخ پاکستان کا بدترین مارشل لا ء وہ تھا جو احمد بیت کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ آپ کی آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے آیا ہے۔ان تحریکات کے نتیجے میں آیا جو بھٹو صاحب کے خلاف مہم چل رہی تھی اور اگر اب حکومت سمجھتی ہے کہ بھٹو صاحب کی پارٹی کے خلاف اب جوتحریکات چل رہی ہیں ان میں احمدی گوشت پھینک کر ہم ان خونخواروں سے نجات حاصل کر لیں گے تو جھوٹ ہے، وہم ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو تاریخ پاکستان کا علم ہی کوئی نہیں۔کوئی اس سے سبق حاصل نہیں کیا۔مارشل لاء نا انصافی سے لگتا ہے۔مارشل لاء بے حیائی کے نتیجے میں لگتا ہے۔اس وقت لگتا ہے جب فوج پہلے ہی تیار ہوتی ہے اور فوج میں بھی بہت آنکھیں ہیں جو حرص کے ساتھ حکومت کو دیکھ رہی ہوتی ہیں کہ جہاں ایسا بہانہ مل جائے کہ عوام یقین کر لیں کہ اب چارہ کوئی نہیں تھا اس کے سوا وہاں ضرور دخل دیا جائے اور جب یہ بہانہ ہاتھ آ گیا جب عوام الناس میں یہ بات عام ہوگئی کہ دیکھو سیاست پھر نا کام ہوگئی ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت مارشل لاء سے ملک کو بچانہیں سکے گی۔مارشل لاء سے پہلے کے بیان بھی تو کبھی پڑھ کے دیکھیں۔تمام فوجی افسر یہی بیان دیتے ہیں ہمیں تو کوئی دلچسپی نہیں۔دو دن پہلے تک یہی بیان آ رہے ہوتے ہیں اس لئے بیانات کی کیا بات ہے۔اپنے حالات درست کرو، اپنے کردار درست کرو، اصولوں پر قائم ہو تو ملک بھی بچے گا اور آپ بھی بچیں گے۔اگر یہی ہلڑ بازی رہی جیسی کہ چل رہی ہے اور پھر نا انصافی کی حد کہ جماعت احمدیہ کو ہر دفعہ اپنے مفادات کی خاطر قربان کرنے کے لئے ظالموں کے رحم وکرم پر پھینک دیا جائے جہاں رحم و کرم نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔اور جہاں مذہب سے تمسخر کیا جائے ، مذہبی اقدار سے کھیلا جائے وہاں کب تک آخر آپ مارشل لاء سے بچیں گے۔وہی محاورہ صادق آتا ہے کہ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی ،کبھی تو چھری کے نیچے آئے گی۔تو بکرے کی مائیں بنے بیٹھے ہو اور کہتے ہو کہ مارشل لاء سے گریز کرو، مارشل لاء سے بچنے کی کوشش کرو، یہ تو ممکن نہیں ہے۔اپنی ادائیں بدل تو پھر ضرور ہے اور ہونا یہی چاہئے اور میں تو سب سے زیادہ مارشل لاء کے خلاف اپنے خطبات میں ذکر کر چکا ہوں اور فوج کو اچھی طرح سمجھا چکا ہوں کہ دیکھو کہ یہ کوئی طریق نہیں ہے۔ملک کی سیاست کو درست کرنے میں اثر انداز ہو۔جب بے اصولیاں ہوتی ہیں تم چپ