خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 528

خطبات طاہر جلد 13 528 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جولائی 1994ء سکے۔اس لئے کھیل تماشوں کو انقلاب نہ سمجھا کریں۔واقعہ یہ ہے کہ سیاستدان بہت مشکلات میں ہیں اور ایک ان پر یہ تاثر ہے کہ احمدیوں کے معاملے میں اگر ہم نے کوئی بھی سختی کی تو اس بہانے فوج واپس آ جائے گی اور سیاست کی صف لپیٹی جائے گی۔یہ ایک پرانا نظریہ چلا آ رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے آغاز کے وقت کی بات ہے پیپلز پارٹی ہی میں یہ ایجاد ہوا تھا کہ جب بھی احمدیوں کے خلاف تحریک کو کچلا گیا تو مارشل لاء لگ گیا۔اس لئے مارشل لاء سے ملک کو بچانے یا اپنی جانیں چھڑانے کے لئے ضروری ہے کہ احمدیوں کو جن کے سامنے ڈالنا ہے وہ چیریں پھاڑ میں جو مرضی کریں کوئی پرواہ نہیں ہے لیکن مارشل لاء کا خطرہ مول نہیں لینا۔اس کے برعکس جب سیاسی تحریکیں زور پکڑتی ہیں تو وہاں کیوں گولی چلتی ہے وہاں کیوں گلیوں میں خون بہائے جاتے ہیں۔وہاں کیوں وسیع پیمانے پر قید میں ہوتی ہیں۔کیا ان دونوں باتوں میں تضاد ہے؟ یہ مسئلہ ہے جو میں کھولنا چاہتا ہوں۔درحقیقت کوئی تضاد نہیں۔اس صورت میں دو ہی ان کو احتمالات دکھائی دیتے ہیں یا تو اس تحریک کے نتیجے میں ہم ذلیل و خوار ہو کر اتریں گے اور ان رقیبوں سے جو تیاں کھائیں گے یا مارشل لاء آئے گا نہ ہم رہیں گے نہ یہ رہیں گے۔اس وقت مارشل لاء ایک بہت قیمتی چیز اور Wellcome چیز دکھائی دیتی ہے۔اس وقت ان سیاستدانوں کی نظریں حقیقت میں مارشل لاء پر لگی ہوتی ہیں۔یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ رقیب روسیاہ حکومت میں آ جائے۔وہ کہتے ہیں ان کو تو بہر حال اتارو ما رو کوٹو جس طرح بھی چاہو جیلوں میں ٹھونسو، ان کی چھاتیاں بھون دو گولیوں سے، لیکن آنے نہ دو یا تو یہ مر کے ختم ہو جائیں گے اور ہم حکومت کریں گے یا اگر آیا تو مارشل لاء ہی آئے گا نا، ان کا بھی حق حکومت سے جاتا رہے گا ہمارا بھی جاتا رہے گا۔پس جو اس سے پہلے مارشل لاء تھا جو ضیاء کا مارشل لاء لگا ہے اس میں احمدیوں کے معاملے کا کوئی بھی دخل نہیں تھا۔کوئی دور کی بھی بات احمدیت کی نہیں تھی۔اس لئے مارشل لاء سے تو ان کو نجات ممکن نہیں ہے۔جب لگنا ہے جیسا بھی لگتا ہے وہ تو ان کا مقدر بن چکا ہے۔جہاں سیاست میں اخلاق باقی نہ رہیں جب سیاست میں اصول نہ چلیں۔جہاں ہر چیز ، ہر حربہ، ہر پارٹی کے لئے جائز ہے خواہ وہ حکومت میں ہو یا حکومت سے باہر ہو۔جہاں ملک میں عوام الناس کے احساسات نہ حکومت پارٹی کو ہوں نہ اپوزیشن پارٹی کو ہوں ، صرف حکومت کی بھوک ہو اور اس کی طلب سب کچھ کروا ڈالے۔جہاں یہ دستور سیاست ہو وہاں سیاست نہیں چلا کرتی۔آج نہیں تو کل ضرور نا کام ہو