خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 524
خطبات طاہر جلد 13 524 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1994ء نیک انجام نہیں ہو سکتا۔تو پھر حل کیا ہے؟ فرمایا تم إلى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ گھبراہٹ کیا ہے، جلدی کیا ہے۔تم سب نے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ ان سب کا بالآخر انجام یہ ہے کہ خدا کے حضور لوٹائے جائیں گے فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ وہ ان کو بتائے گا کہ ان کے اعمال کیسے تھے، حسین تھے یا بد تھے۔پس اگر خدا نہیں ہے تو پھر مولویوں کی جلدی اور گھبراہٹ قابلِ فہم ہے۔پھر اس دنیا میں اگر ان کی سزا سے کوئی بچ کے نکل گیا تو پھر کسی کے ہاتھ بھی نہیں آئے گا۔اس لئے ان کی گھبراہٹ واقعہ قابل فہم ہے جب خدا ہے ہی کوئی نہیں تو جو سزا دینی ہے اس دنیا میں دے لومرنے کے بعد پھر کیا ہونا ہے۔لیکن اگر خدا ہے اور خدا ہے اور خدا ہی کے نام پر سارے قصے ہیں تو پھر انسان کو کسی گھبراہٹ اور تکلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ہر ایسے بد بخت کو خدا خود سزا دے گا جو اللہ تعالیٰ کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔اور اس ساری آیت میں کہیں اشارہ یا کنایہ بھی بندوں کو اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ کی ناموس کے نام پر ایک دوسرے پر تلوار چلانا شروع کر دیں۔اب چونکہ وقت ختم ہو گیا ہے اور ریڈیو والے شکایت کرتے ہیں کہ آپ اگر وقت پر خطبہ ختم نہ کریں تو ٹیلی ویژن کا وقت تو لمبا ہے ریڈیو کا صرف ایک گھنٹے کا ہے اور عین اس وقت جبکہ بات آخر پر پہنچی ہوتی ہے ہم محروم رہ جاتے ہیں۔تو اس لئے میں نے سوچا تھا کہ عین وقت پر آج ختم کروں گا۔چونکہ مضمون بہت لمبا ہے ہو سکتا ہے آئندہ ایک دو یا شائد تین خطبوں تک بھی مضمون چل جائے۔لیکن ایک دفعہ میں مضمون کے ہر پہلو کو اس طرح خوب کھول کر، نتھار کر قوم کے سامنے پیش کر دینا چاہتا ہوں اس کے بعد پھر ان کا خدا کے ساتھ معاملہ ہوگا اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور بری الذمہ ٹھہریں گے۔انشاء اللہ تعالی۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔