خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 522

خطبات طاہر جلد 13 522 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1994ء ہے۔عصمت کا اعلان کیا ہے اور ان کی توہین کو کراہت کی نظر سے اور ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔باقی سب مذاہب دوسرے تمام مذاہب کے انبیاء کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔اس لئے اگر علماء کی یہ مراد ہے کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ جن کو تم سچا سمجھو ان کی تو ہین کے خلاف قانون سازی کرو جن کو تم جھوٹا سمجھو ان کے متعلق کھلی چھٹی دو کہ جو چاہے جتنی چاہے سر بازار گالیاں دیتا پھرے تو پھر ساری دنیا میں مسلمانوں کے لئے تو موقع نہیں ہوگا لیکن تمام مذاہب کو کھلی چھٹی ہوگی کہ اسلام کے خلاف جتنی چاہیں گندی زبان استعمال کریں اور نعوذ باللہ من ذلک آنحضرت ﷺ کے خلاف جتنی چاہیں گندی زبان استعمال کریں اور اس پر ان کے خلاف تمہیں کوئی عذر نہیں ہوگا۔کیونکہ قرآن کریم نے یہ مسئلہ اللہ کے حوالے سے اٹھایا ہے اور اصل بات اللہ کے حوالے سے ہی شروع ہونی چاہئے۔یہ عجیب بات ہے کہ مولوی توہین رسالت کی باتیں کرتے ہیں تو ہین خداوندی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔اس لئے بات وہاں سے شروع ہوگی جہاں سے قرآن شروع کرتا ہے، جہاں سے عقل کا تقاضا ہے کہ بات شروع کرو۔انبیاء کوئی عزتیں گھر سے تو نہیں لے کے آئے ، انبیاء کوتو تمام تر عزت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوئی ہے۔اگر اللہ ہی کی عزت باقی نہ رہے تو انبیاء کی عزت کو کسی نے کیا کرنا ہے۔اس لئے بات اللہ کے حوالے سے شروع ہوگی۔پہلا سوال یہ اٹھتا ہے اور قوم کو چونکہ علم نہیں کہ مذہب کیا ہے یا قرآن کیا کہتا ہے۔اس لئے میں ان کو یہ حوالہ دے کر سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آپ کو کم سے کم مولویوں سے یہ پوچھنا تو چاہئے کہ اللہ کی عصمت کا بھی قرآن کریم میں کہیں ذکر ہے کہ نہیں ؟ کہیں اللہ کی توہین کا مضمون بھی بیان ہوا ہے کہ نہیں؟ اگر ہوا ہے تو دکھاؤ کہاں ہوا ہے! اور پھر وہاں وہ جگہ بھی بتاؤ جہاں اس کے خلاف کسی سزا کا اعلان کیا گیا ہو۔یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا جا تا؟ اسمبلی کے کسی ممبر نے کسی ملاں سے مڑ کے یہ سوال نہیں کیا لیکن ملاں نے تو آپ کو جواب نہیں دینا۔میں آپ کو بتا تا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا الله عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ کتنا عظیم جواب ہے اس سوال کا ! اس سوال کا بھی حل آ گیا جو میں نے فرضی طور پر اٹھایا تھا کہ کسی کو سچا سمجھو تو عزت کردیا جھوٹا سمجھنے کے باوجود بھی تمہارا فرض ہے کہ عزت کرو اور قوم کا دل نہ دکھاؤ۔قرآن کریم اللہ کے حوالے سے یہ مسئلہ اٹھا رہا ہے۔فرماتا ہے