خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 518

خطبات طاہر جلد 13 518 خطبہ جمعہ فرمود : 15 جولائی 1994ء رہے ہو وہ ایک اور اندھیری رات کا طلوع ہے۔بعض ایسے اوقات آتے ہیں جب راتوں کے بعد راتیں ہی طلوع ہوتی ہیں۔پس جس قوم کی بدنصیبی یہ ہو جائے کہ ہر رات کے بعد ایک رات طلوع ہو رہی ہو اس قوم کو یہ تو نہیں سمجھایا جا سکتا کہ تم رک جاؤ اور آنکھیں کھولو اور دیکھو۔وہ اندھیرے ان کے اپنے دماغوں کی پیداوار ہیں وہ ان کو گھیرے میں لے لیتے ہیں۔مومن کا نور بھی اس کے دل سے پھوٹتا ہے اور اس کے آگے آگے چلتا اور اندھیری راتوں کو مومن کے لئے روشن کر دیتا ہے۔پس یہ عجیب را تیں ہیں جن میں کچھ تو ہیں جو اندھیروں میں بھٹکتے اور مزید بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔کچھ وہ ہیں جن کے دل کا پاک باطنی کا نور ان کے چہروں پر ہویدا ہوتا ہے ان کے آگے آگے روشنی کرتا ہوا چلتا ہے۔تو ہر گز یہ توقع نہیں ہے کہ آپ میں سے کوئی ایسا انسان ہے یعنی پاکستان کے سیاستدانوں میں سے جو تقوی شعاری کے ساتھ ، خدا کے نام پر ، صداقت کی خاطر سینہ سپر ہو جائے اور قائد اعظم کے نام کو دوبارہ اس ملک میں زندہ کر سکے۔ہم نے اپوزیشن بھی دیکھ لی ہے اور حکومت بھی دیکھ لی ہے۔وہ حکومت بھی دیکھ لی جو کبھی اپوزیشن تھی۔وہ اپوزیشن بھی دیکھ لی ہے جو کبھی حکومت ہوا کرتی تھی۔آئندہ کتنی بار یہ رات اور دن بیٹیں گے اللہ بہتر جانتا ہے۔مگر کوئی بھی صداقت کے لئے روشنی کا پیغام نہیں لا سکا۔اب جو موجودہ دور میں بات ہوئی ہے اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ کیسے کیسے بہادر لوگ ہیں۔جو اعلان کیا گیا تھا ایک وزیر کی طرف سے اس کی مرکزی روح یہ تھی کہ اس نام پر ہم ظلم نہیں ہونے دیں گے اور عیسائیوں سے وعدہ ہو رہا تھا احمدیوں کی تو بات ہی کوئی نہیں تھی۔عیسائی قوموں کے آگے ہاتھ جوڑے جارہے تھے کہ بالکل پرواہ نہ کرو۔مجال ہے جو کسی عیسائی کے خلاف ہتک رسول کا مقدمہ دائر ہو جائے ہم یہ وعدہ کرتے ہیں۔ہمیں اور احمدیوں کو ہمارے حال پر چھوڑ دو۔مولویوں کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں احمدیوں کو بھی کوئی انصاف کی ضمانت نہ دے دی گئی ہو اس پر جو ہنگامے انہوں نے کھڑے کئے ہیں اس پر جو ساری قوم کا حال ہوا ہے، کس طرح سیاستدان اپنے پاجاموں میں کانچے ہیں اور کیسی کیسی منتیں کی ہیں اور کہا کہ خدا کی پناہ ، انا للہ ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے قادیانیوں کے حق میں انصاف کا فیصلہ ! ہماری توبہ، ہماری بلا سے ہم ایسا نہیں کر سکتے اور اعلانات سے سے صفحوں کے صفحے اخباروں کے کالے ہوئے پڑے ہیں اور یہ مولوی ہے جو پیچھا نہیں چھوڑ رہا اور پھر ایک ایسا واقعہ رونما