خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 513 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 513

خطبات طاہر جلد 13 513 خطبہ جمعہ فرمود و 15 جولائی 1994ء طبقے بن جاتے ہیں ایک وہ جنہوں نے الہی کلام اور پیغام کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور ذاتی طور پر مذہب کا کوئی علم بھی نہیں رکھتے۔سوائے چند معمولی باتوں کے ان کو اور مذہب کی کسی حقیقت کا علم نہیں ہوتا۔لیکن کچھ ایسے لوگ ہیں جو پھر اس میں سپیشلسٹ کہلاتے ہیں یعنی وہ کہتے ہیں کہ تمام مذہبی انبار ہماری گردنوں پر ڈالے گئے ہیں، ہم سمجھتے ہیں۔وہ مذہب کے نمائندہ بن کے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ جب مذہب کی نمائندگی میں کچھ بات کہتے ہیں تو قوم کی اکثریت ذاتی طور پر اس تحقیق کی اہلیت ہی نہیں رکھتی کہ وہ سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ بول رہے ہیں۔جو بات بیان کرتے ہیں وہ حقیقت میں مذہب کی بات ہے بھی کہ نہیں اپنے نفس کا جھوٹ ہے، اپنے نفس کی تعلی ہے اپنی انانیت کے قصے ہیں یا حقیقت میں خدا رسول کی باتیں ہیں یہ تمیز کرنے کی اہلیت ان قوموں میں نہیں رہتی۔اس کے بعد ان کا مذہب جن کا ان کو علم نہیں ان کے خلاف ہو ابنا کر پیش کیا جاتا ہے اور ڈر کے مارے یہ لوگ آگے آگے بھاگتے ہیں اور امن کی پناہ گاہیں ڈھونڈتے ہیں کہ کسی طرح اس مصیبت اس بلا سے چھٹکارا ملے۔لیکن پیچھا کرنے والوں کا اعلیٰ مقصد خدا اور خدا کی محبت نہیں ہوتی جیسا کہ اس آیت کریمہ سے خوب واضح ہو چکا ہے۔ان کی شرطیں اور قسم کی ہوتی ہیں دنیاوی مفادات سے تعلق رکھتی ہیں، ذاتی انتقامات سے تعلق رکھتی ہیں اور خدا کی محبت کا نہ قصے کے آغاز میں ذکر نہ درمیان میں نہ آخر پر ، اس سے بالکل بے تعلق باتیں ہوتی ہیں۔پس ان دنوں میں جو ناموس رسول ﷺ کے نام پر تحریک چلائی جا رہی ہے اس کے جو مختلف پہلو ہیں وہ میں آپ کے سامنے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔یعنی تمام دنیا کے مسلمانوں کے سامنے خصوصیت سے ، تاکہ وہ ان کو سمجھیں اور کچھ روشنی حاصل کریں۔ان اندھیروں میں نہ بھٹکتے رہیں جہاں ان کی گزشتہ بے اعتنائیوں نے انہیں جا پہنچایا ہے۔اول تو یہ بات کھول کر پیش کرنے کے لائق ہے کہ اس تحریک یا اس جیسی تحریکات کے محرکات کیا ہیں؟ کیا یہ سیاسی اغراض کی خاطر اور سیاسی غلبے کی خاطر بعض مولویوں کے بہانے ہیں جو انہوں نے قوم کے سامنے رکھے ہیں یا حقیقت میں ناموس رسول یا ناموس خدا کی خاطر اس کی محبت میں یہ یہ سب تحریکات چلا رہے ہیں؟ یہ غور طلب باتیں ہیں۔پہلے میں اسی حصے پر کچھ گفتگو کرتا ہوں۔امر واقعہ یہ ہے کہ کل عالم اسلام میں اس وقت ملائیت اور مسلمان سیاستدانوں کے