خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 497

خطبات طاہر جلد 13 497 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 / جولائی 1994ء میں تو پہلے ہی یہی رنگ اختیار کیا جاتا ہے مگر میرا اندازہ یہی ہے کہ چھوٹے ممالک میں ابھی جلسے کو اس انداز پر قائم نہیں کیا جاتا یا منعقد نہیں کیا جاتا جو قادیان کی پاک روایتیں ہیں۔پس یہ نصیحت خصوصیت سے چھوٹے ممالک پر اطلاق پاتی ہے۔ان کے نمائندے بھی خصوصیت سے اس بات کو زیر نظر رکھ کر آئیں ذہن نشین کر کے آئیں کہ ہم نے یہاں جو سیکھنا ہے اسے واپس جا کر اپنے ملکوں میں رائج کرنا ہے تا که مرکزی جلسوں کے نمونے زیادہ سے زیادہ تعداد میں کل عالم میں پھیلیں اور قائم ہو جائیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض و غائت میں یہ ایک اہم غرض و غائت ہے کہ اسے کسی قیمت پر بھی ثانوی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔جلسے کا نظام عالمی بھائی چارے کو تقویت دینے اور اخلاقی لحاظ سے ایک عالمی معیار پیدا کرنے اور قائم رکھنے کے لئے بہت ہی ضروری ہے اور اگر ان پاک روایات کو آپ ہمیشہ جاری رکھیں تو اس کے علاوہ آپ کو نظم وضبط کے بھی نئے سلیقے ملتے ہیں اور ہر قسم کے کاموں میں انتظامات کا ایک ایسا تجربہ نصیب ہوتا ہے جو روز مرہ کی زندگی میں آپ کے ہر طرح سے کام آ سکتا ہے اور جماعت کے کردار کی تخلیق میں بہت مدد کرتا ہے۔جماعت کا ایک کردار ہے جس کا نہ کسی ملک سے تعلق ہے، نہ کسی قوم سے تعلق ہے، نہ کسی خاندان سے تعلق ہے۔جماعت بحیثیت جماعت احمد یہ ایک اسلامی کردار کی حامل ہے اور یہی کردار در حقیقت آپ کا تشخص بن رہا ہے اور بنتا چلا جائے گا۔یہی کردار ہے جس کے تشخص کو نمایاں کرنے کے نتیجے میں ایک عالمی برادری وجود میں آئے گی اور اس کے بغیر یہ مکن نہیں ہے۔پس اس کردار کی تعمیر میں اور اس کے تشخص کو نمایاں کرنے میں جماعت احمد یہ عالمگیر کے سالانہ جلسے ایک بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جس طرح مجلس شوری ایک خاص دائرے میں خلافت کی نمائندہ اور دست و بازو بن جاتی ہے اسی طرح یہ جلسے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خلافت کے قیام اور استحکام اور اس کے فوائد کو عام طور پر جاری کرنے میں بہت ہی محمد ثابت ہوتے ہیں۔پس آنے والوں کے لئے UK کی جماعت محنت اور تیاری کرے اور اخلاقی لحاظ سے ہر شخص جو شامل ہونے والا ہے اور میری آواز کو سن رہا ہے وہ اپنا اور اپنے بچوں اور عزیزوں کا جائزہ لے اور دیکھے کہ پہلے اگر کچھ کمزوریاں تھیں تو امسال وہ کمزوریاں نہ ہوں۔اس پہلو سے جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کرتا رہا ہوں مگر اکثر جلسے کے قریب کے خطبے میں