خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 498

خطبات طاہر جلد 13 498 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 جولائی 1994ء بیان کرتا رہا ہوں مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ اگر جلسے سے پہلے خطبے میں یہ باتیں بیان کی جائیں تو جس وسعت کے ساتھ انہیں پھیلانے کی ضرورت ہے اور جس گہرائی سے تنظیموں کا فرض ہے کہ ان کی نگرانی کریں اور عمل درآمد میں حمد اور مددگار ثابت ہوں ان کے پاس وقت نہیں رہتا اور باتیں سننے کے باوجود انفرادی طور پر کچھ لوگوں پر اس کا اثر پڑتا ہوگا اور فائدہ اٹھاتے ہوں گے مگر جماعتی لحاظ سے ان باتوں کو جاری کرنا اور یہ دیکھنا کہ وہ تمام جماعت تک پہنچ چکی ہیں اور تمام خاندان اور افرادان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جلسے کے بہت قرب کے نتیجے میں ممکن نہیں رہتا۔ایک اور پہلو یہ ہے کہ دور تک کی آواز پہلے تو بعض دفعہ مہینے یا دو مہینے بعد پہنچا کرتی تھی اور اب ٹیلی ویژن کے ذریعہ خطبہ پہنچتا ہے تو ہر جگہ اس کا انتظام نہیں ہے اس لئے ہر ملک کو کچھ موقع ملنا چاہئے کہ پیغام سن کر اپنی جماعت میں آنے والوں کا جائزہ لیں، ان سے رابطہ کریں، ان تک یہ بات پہنچائیں۔پس جلسے سے معا پہلے کے خطبے میں یہ باتیں بیان کرنا اس حد تک سود مند یعنی فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتیں جتنا کچھ عرصہ پہلے بیان کرنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔پس کینیڈا کے جلسے کے حوالے سے مجھے یہ خیال آیا کہ آج ہی آپ سے جلسہ سالانہ UK کے متعلق بھی چند باتیں کروں۔ایک اہم بات جس کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں اور پھر اس کو زیادہ شدت کے ساتھ یاد دلانے کی ضرورت ہے وہ جلسے کے ایام میں نماز با جماعت کا قیام ہے۔آنے والے مہمان بھی یکساں اس سے مخاطب ہیں اور یہاں خدمت کرنے والے بھی یکساں اس میں مخاطب ہیں۔جلسے کے ہنگامے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر بعض دفعہ خدمت کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ خدمت تو ہم کر ہی رہے ہیں، نمازیں بھی ہو جائیں گی گویا نمازیں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں اور خدمت اولیت اختیار کر جاتی ہے۔یہ وہ رجحان ہے جسے شدت سے توڑنے کی ضرورت ہے۔نمازیں اول ہی رہتی ہیں سوائے اس کے کہ خدمت کے ایسے ہنگامے میں آئیں کہ فوری طور پر اس وقت ادا نہ کی جاسکیں۔مگر اس سے بڑا ہنگامی وقت کیا ہو سکتا ہے جبکہ تو میں اپنی زندگی اور موت کے جہاد میں مصروف ہوں اور اس سے زیادہ یہ ہنگامہ کیسے اہمیت اختیار کر سکتا ہے کہ جب اس زندگی اور موت کی جدو جہد میں مرکزی حیثیت حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کو حاصل ہو۔ایسی صورت میں بھی عین جنگ کے درمیان ﷺ نماز با جماعت کے احترام کو اس شدت سے قائم کیا گیا کہ یہ خصوصی حکم دیا گیا کہ اس دوران اگر