خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد 13 44 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1994ء ہے یا پھپھی سی ہے۔پھر وہ گرم ہے کہ سرد ہے۔ان سب چیزوں کے لئے خدا تعالیٰ نے پھر زندگی کو محسوس کرنے کے ذرائع عطا کئے حالانکہ آغاز صرف بقاء کا ہے۔بقاء کی خاطر سفر شروع ہوا ہے۔لیکن زندگی خود تو یہ چیزیں بنا نہیں سکتی تھی۔احساس تھا کہ کاش میں جو کچھ لذت حاصل کرتی ہوں تو مجھے اس کی لذت کو معلوم کرنے کے لئے معین ذرائع بھی میسر آجائیں۔قرآنِ کریم نے اس مضمون کو ایک سورۃ میں مکمل طور پر پیش فرمایا ہے کہ تم یہ کچھ جو تم نے کیا، کیا تم اس کے خالق تھے یا ہم خالق تھے؟ یہ بتانے کے لئے کہ تمہیں احساس وجود تو تھا مگر اس احساس وجود کی سعی کے لئے تم کچھ بھی خود پیدا نہیں کر سکتے تھے۔لیکن لگتا یوں ہے کہ خود بخود پیدا ہورہا ہے۔تو جتنی بھی لذتیں کھانے پینے اور کس سے تعلق رکھتی ہیں۔ان سب لذتوں کا تعلق اپنے وجود کی نشو ونما اور اس کی بقاء سے ہے۔اصل مزہ اس بات کا ہے کہ بڑھ رہے ہیں، ہم پھیل رہے ہیں، ہم باقی ہیں، ہم زندہ ہیں۔ہم طاقتور ہیں اور اس کو معین طور پر محسوس کرنے کے لئے ہمیں منہ کے اندر بعض ایسے سیل عطا کئے گئے ، ایسے خلیے عطا کئے گئے جو ان چیزوں کو محسوس کر سکتے ہیں۔ہمارے ہاتھوں میں ، ہماری جلدوں میں، اس قسم کے خلیے عطا کئے گئے جوان چیزوں کو محسوس کر کے ان کا الگ الگ تجزیہ کر سکتے ہیں اور پھر وہ اعصاب عطا کئے ، جن اعصاب کے ذریعے یہ سارے پیغامات دماغ تک پہنچتے ہیں اور پھر دماغ میں وہ صلاحیت عطا کی گئی کہ ان تمام احساسات کو نہایت تیزی کے ساتھ ، برقی رفتار کے ساتھ کمپیوٹ کر کے جیسے کمپیوٹر ایک چیز کا حساب لگاتا ہے، حساب لگا کر نہ صرف یہ کہ اپنے اپنے الگ الگ خانوں میں جن کو وہ الگ الگ کر کے دکھائے ، یہ جو چیز تم کھا رہے ہو، یہ اتنی ٹھنڈی ہے، اتنی گرم ہے، اتنی نرم ہے، اتنی سخت ہے، اس میں تمہاری بقاء کے لئے غذا کس کس شکل میں پائی جاتی ہے۔وغیرہ وغیرہ اور اس کی بیو کیسی ہے۔یہ دماغ پھر الگ الگ خانوں میں سجا کے دکھاتا ہے لیکن ابھی اس کا نام لذت نہیں ہے۔لذت اس آخری کمپیوٹیشن میں ہے جس میں دماغ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں ہر طرف سے مطمئن ہوں اور مجھے بہت ہی لطف آیا ہے کہ مجھے جو چیز اپنے وجود کی تقویت کے لئے جتنی جتنی جیسی جیسی شکل میں ضرورت تھی، وہ سب مجھے مل گئی۔لمس کے لحاظ سے بھی میں مطمئن ہو گیا، درجہ حرارت کے لحاظ سے بھی مطمئن ہو گیا ،نمکین ہونے یا میٹھا ہونے کے لحاظ سے بھی مطمئن ہو گیا وغیرہ وغیرہ۔