خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 45

خطبات طاہر جلد 13 45 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 /جنوری 1994ء پھر آخری اطمینان اگر چہ ہم مادی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔لیکن اس کا منبع صرف وہی ”انا“ ہے۔یعنی احساس وجود، جسے تقویت مل رہی ہے۔اس تقویت کے نتیجے میں ایک بہت لمبے سفر سے زندگی گزری ہے اور ہر تقویت، کچھ اور وجود میں اضافہ کرتی چلی گئی اور اس کے نتیجے میں مختلف سیلز کی شکل میں انسان کے احساس کی قوت ڈھلتی رہی اور اس طرح یہ سفر بالآخر انسان تک پہنچا ہے۔اور حواسِ خمسہ کو جب آپ دیکھتے ہیں تو حواس خمسہ اسی سفر کی آخری شکل ہے جو انسان سے جا کر آخر پر منتج ہوئی ہے۔حواس خمسہ تک پہنچنے سے پہلے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا ویسا نمایاں احساس ممکن نہیں تھا۔جیسا حواسِ خمسہ کے ذریعے ہوا۔تو اگر چہ یہ سفر انفرادی طور پر ایک ایک واسطے کے تعلق کو سمجھانے کے لئے اختیار کیا گیا۔لیکن مزہ و ہیں آیا جہاں ہمارے وجود کی مددگار چیزیں ثابت ہوئیں۔جہاں ہمارے وجود سے زندگی کم کرنے والی طاقتیں، اڑانے والی چیزیں پیدا ہوئیں۔وہاں مزے کی بجائے اس سے نفرت کا احساس پیدا ہوا ، اس سے خوف پیدا ہوا جو پھر آگے مختلف قسم کے سیلز میں ڈھلنا شروع ہوا۔پس درد کا احساس تکلیف کا احساس، کھوئے جانے کا احساس، یہ سارے ہمارے وجود کے خلاف اثر کرنے والے محرکات ہیں۔جن سے ہمیں بنیادی طور پر صرف نفرت ہے۔ہمیں پسند نہیں ، ہمارے وجود کے خلاف کام کر رہے ہیں۔اس نفرت کو خدا تعالیٰ نے پھر ڈھالا ہے، مختلف قسم کے احساسات میں۔ایک انگلی کائی جاتی ہے درد ہوتی ہے۔سوئی سے کسی جگہ کچھ چھویا جائے تو درد ہوتی ہے۔کیوں ہوتی ہے۔آخری Anphisis ہے اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ اس نے وجود کو خطرہ پیدا کیا ہے اور جہاں جہاں ، جس جس سمت سے بھی وجود کو خطرہ در پیش ہوگا وہاں تکلیف ہوگی اور اس تکلیف کا نام ہم کبھی بھوک رکھ لیتے ہیں، کبھی در درکھ لیتے ہیں، کبھی سردی رکھ لیتے ہیں، کبھی گرمی رکھ لیتے ہیں اور ان سب کے لئے الگ الگ ذرات اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کئے ہیں یا خلیات جن میں ان چیزوں کو محسوس کرنے کی صلاحیتیں رکھی گئی ہیں۔لیکن آخری Analysis آخری تجزیہ یہی ہے کہ لذت بقاء میں ہے اور بقاء کی لذت نے جو لمبا سفر اختیار کیا ہے اس سفر کے نتیجے میں اس لذت کو محسوس کرنے کے لئے احساسات میں نشو ونما پیدا ہوئی ہے۔اور یہ نشو و نما احساس آنا “ نے پیدا نہیں کی۔چونکہ وہ بالکل اس بات کا اہل ہی نہیں تھا کہ کچھ پیدا کر سکتا۔اللہ کی ”انا“ نے پیدا کی ہے۔جس سے زندگی