خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 493 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 493

خطبات طاہر جلد 13 493 خطبہ جمعہ فرمود 8 جولائی 1994ء سوال و جواب کے ذریعہ ان کے سوالات کے براہ راست جواب دئے جاسکیں۔اس پر جو منی سوال اٹھیں گے پھر انشاء اللہ ان پر بھی گفتگو ہوتی رہے گی۔، بہر حال یہ جلسہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت برکات لے کر آیا، بہت سی برکات دائمی صورت میں پیچھے چھوڑ گیا اور اس موقع پر چونکہ وہ براہ راست کینیڈا والے بھی میرا خطبہ سن رہے ہوں گے ان کو میں اپنی طرف سے بھی اور تمام جماعت عالمگیر کی طرف سے بھی کامیاب جلسہ پر مبارکباد دیتا ہوں اور تمام کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دن رات بے حد محنت کی اور بڑی قربانی کے جذبے سے اپنے سپر د ذمہ داریوں کو نبھایا۔ہر پہلو سے خدا کے فضل سے انتظام بہت اعلیٰ تھا اور نمونے کا تھا۔کھانے کا معیار بھی بہت اچھا تھا۔یہاں تک کہ بہت سے لوگ جن کو دوسری جگہ ہر قسم کے اچھے کھانے میسر تھے ، وہ کھانے چھوڑ کر لنگر کے کھانے کی طرف زیادہ مائل رہے اور بہت شوق سے ذکر کرتے رہے کہ جو مز النگر کی دال کا یا آلو گوشت کا آتا ہے، وہ اور کسی کھانے میں نہیں آتا۔تو یہ بین الاقوامی طور پر جلسہ سالانہ قادیان کی چھوٹی چھوٹی صورتیں جگہ جگہ ظاہر ہو رہی ہیں۔کوشش یہی ہے کہ بعینہ ویسی ہوں جیسا کہ قادیان میں جلسے ہوا کرتے تھے اور الحمد للہ کہ جو کچھ کمی اس پہلو سے رہ گئی تھی وہ ہمارے آپس میں مل بیٹھ کر معاملہ نہی کے نتیجہ میں بہت حد تک دور ہوگئی اور آخری صورت میں یہ جلسہ کئی پہلوؤں سے قادیان کی یاد دلانے والا تھا۔میری خواہش یہی ہے کہ قادیان کا جلسہ ہر جماعت میں اس طرح منعقد کیا جائے ، انہی روایات کے ساتھ ، انہی اعلیٰ نیک اور پاک نصیحتوں کا نمونہ بن کر آئے اور انہی اعلیٰ اور پاک نصیحتوں پر عمل کرنے کا نمونہ بن کر آئے۔اگر ہر جلسہ ایسا ہوتو خدا کے فضل سے تمام ان ملکوں میں جہاں ایسے جلسے ہوتے ہیں۔جماعت کے آپس میں محبت کے رشتوں میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے کے سامان ہوں گے اور اس پہلو سے تمام سالانہ جلسے جماعت کو آپس میں محبت میں باندھنے میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو پہلے جلسے کی اغراض بیان فرمائی تھیں ان میں ایک یہ اہم غرض تھی کہ ان جلسوں کے ذریعے مختلف جگہوں کے احمدی آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے، اس طرح مورت یعنی محبت کا رشتہ قائم ہو گا، ایک دوسرے کو سمجھیں گے، ایک دوسرے سے فائدہ اٹھا ئیں گے اور اس طرح ایک عالمی برادری وجود میں آنے لگے گی۔پس یہ ضروری ہے کہ ہر