خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 494
خطبات طاہر جلد 13 494 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 جولائی 1994ء ملک میں اسی طرح کے جلسے انہی فوائد کو لئے ہوئے جماعت کے سامنے بار بار آتے رہیں اور اس طرح ایک ملکی سطح پر جب باہمی محبت کے رشتے بنیں گے تو ان ملکوں میں جو باہر سے لوگ جاتے ہیں وہ بھی ایک عالمی برادری کا احساس پیدا کرنے میں مزید مد ثابت ہوں گے اور ہوتے ہیں۔افریقہ کے ممالک میں جب جلسے ہوتے ہیں تو افریقہ کے ارد گرد کے ممالک سے کچھ نمائندے پہنچتے ہیں۔جب امریکہ میں جلسے ہوتے ہیں تو وہاں سے ارد گرد کے ممالک سے شامل ہونے والے احمدی پہنچتے ہیں۔اگرچہ فاصلے وہاں بہت زیادہ ہیں مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی دکھائی دے ہی دیتا ہے۔کوئی سرینام کا بھی نمائندہ مل جاتا ہے، کوئی گیا نا کا نمائندہ بھی مل جاتا ہے، کوئی ٹرینیڈاڈ کا نمائندہ بھی مل جاتا ہے۔غرضیکہ کینیڈا میں جلسہ ہو یا شمالی امریکہ میں اردگرد کے ممالک کی نمائندگی ضرور ہوتی ہی رہتی ہے۔پس اس پہلو سے جماعت کا دائرہ موڈت، باہم ایک دوسرے سے ملاقات کے سامان مہیا ہونے کے نتیجہ میں پہلے سے زیادہ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جو مضمون میں نے اس سے پہلے شروع کر رکھا ہے یہ بھی دراصل اسی مضمون کا حصہ ہے جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں یعنی تمام دنیا میں ایک مضبوط احمدی بھائی چارہ اس معیار کا قائم کیا جائے جس معیار کا بھائی چارہ قرآن ہم میں دیکھنا چاہتا ہے۔جس معیار کا بھائی چارہ قرآن کریم کی زندہ مثال حضرت اقدس محمد اللہ کے ذریعے چودہ سو سال پہلے بڑی کامیابی اور بڑی شان کے ساتھ مکے اور مدینے میں قائم ہوا تھا اور دیر تک ان تربیت یافتہ ، باہمی محبت کے رشتوں میں بندھے ہوئے صحابہ کرام نے آگے پھر اس بھائی چارے کو پھیلایا اور مختلف ملکوں تک پہنچایا۔اب دور یہ ہے کہ آخرین کے سپرد یہ ذمہ داری ہے۔چودہ سو سال کے فاصلے بیچ میں حائل ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ انتظام فرما دیا ہے کہ آخرین ، اولین ہی کی طرح انہی سے اچھی ادا ئیں سیکھتے ہوئے ، دل لبھانے والے انداز اپناتے ہوئے ، تمام دنیا کو پھر حضرت اقدس محمد مصطفی میے کے ہاتھ پر جمع کریں گے اور جلسہ سالانہ کی روایات اس میں بہت ہی ممد ہیں۔اب عنقریب آپ کے ہاں یعنی یو کے میں بھی ایک جلسہ ہونے والا ہے اور یہ جلسہ عام جلسوں کے مقابل پر زیادہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔اسی پہلو سے دور دراز سے لوگ اس جلسے میں ضرور شامل ہونے کے لئے آتے ہیں۔محض میری شمولیت کی بات نہیں ورنہ میں تو جرمنی کے جلسوں