خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 486 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 486

خطبات طاہر جلد 13 486 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جون 1994ء بد کردار۔پتا نہیں تم نے کس نظر سے اس کو دیکھا۔کوئی بچی بے چاری بے تکلفی سے اس گھر میں کھڑی ہے کھڑکی کے پاس، خاوند آ گیا کہ اچھا تم کسی کو دکھانے کے لئے کھڑی تھی۔میں یہ وہ باتیں کہہ رہا ہوں جو مجھ تک پہنچتی رہتی ہیں اور بہت سی ایسی باتیں ہیں جو تحقیق کے بعد میں بتارہا ہوں۔نام نہیں لیتا لیکن ایسے عجیب و غریب واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔بعض عورتوں کی زندگیاں اجیرن ہو جاتی ہیں صرف خاوند ہی نہیں ساس بھی بدگمانیوں میں پڑی ہوئی ہے، نندیں بھی دوڑ دوڑ کر بھائی کو شکائتیں کرتی ہیں کہ تمہاری جو بیوی ہے جب تم جاتے ہو تو پھر یہ یہ کرتی ہے اور سارا گھر اس کے لئے ایک عذاب کا موجب بن جاتا ہے۔ایسی بعض عورتیں ہیں وہ رسل کی مریض ہو جاتی ہیں۔بعض کینسر میں ماری جاتی ہیں۔عمر بھر گلتی رہتی ہیں اور یہ لوگ یہ خاندان، یہ نہیں سوچتے کہ ان کی بچیاں اگر کسی اور گھر میں جائیں ان سے یہ سلوک ہو تو پھر ان کو کیسا لگے گا! ایسے زہریلے اخلاق ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے اخروی محبت یعنی حیات آخرت کی محبت کا تو سوال ہی نہیں دنیا کے عام انسان تعلقات کی محبت ایسے لوگوں کو نصیب نہیں ہو سکتیں۔یہ گھر اجاڑ نے والی باتیں ہیں مگر اس کے علاوہ معاشرے میں بعض لوگ ویسے ہی ہیں جو ہر وقت دوسرے کے تجس میں رہتے ہیں۔وہ آیا، وہ گیا، اس نے کیوں ایسا کیا اس نے کسی کو کس نظر سے دیکھا؟ ایسی بے وقوفی ہے اور بد اخلاقی ہے اپنا حال پتا کوئی نہیں کہ کس حال میں رہے ہو۔ہر وقت دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہو اور اکثر آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق جو نتیجے نکالتے ہو وہ جھوٹ ہوتے ہیں۔یہ جو آنحضور نے نتیجہ نکالا ہے کہ تمہارے نکالے ہوئے نتیجے جھوٹ ہوتے ہیں۔میں نے اس پر غور کر کے دیکھا ہے نفسیاتی لحاظ سے اس کے سوا کوئی نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا۔وجہ یہ ہے کہ جستجو کرنے والے اور ہر وقت عیب تلاش کرنے والے عموما نفرت کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور جو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے وہ ہمیشہ عیوب کو بڑھا کر دیکھتا ہے اور لازم ہے کہ غلط نتیجہ نکالے۔محبت کی آنکھ تو حیادار ہوا کرتی ہے۔وہ تو اپنے محبوب کی کمزوری دیکھ بھی لے تو آنکھیں اور منہ ادھر کر لیتی ہے اور محبت کی آنکھ سے دوسروں کو دیکھنے والوں سے اللہ تعالیٰ بھی اسی طرح عفو کا سلوک فرماتا ہے۔جب وہ خود کمزوریوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو خدا کی آنکھ گویا انہیں دیکھ رہی اور قرآن کریم میں جو بار ہا عفو کا مضمون دکھائی دیتا ہے اس کا یہی مطلب ہے۔ان بندوں سے عفوفر ما تا ہے جو دوسروں سے عفو فر ماتے ہیں لیکن ان کا یہ حال ہو کہ ایسی دل میں نفرتیں