خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 481

خطبات طاہر جلد 13 481 خطبه جمعه فرموده 24 جون 1994ء اس قدر بے چین کرنے والا فقرہ ہے اس قدر مسیح موعود کو بے قراری لگی ہوئی تھی کہ میں کس طرح جھنجھوڑ وں اور طبیعتوں کو بیدار کروں اور بتاؤں کہ تم آج بھی سوئے پڑے ہو، کیوں نہیں اٹھتے ؟ کیوں میری باتیں نہیں سنتے ؟ آج وہ وقت آگیا ہے کہ جھنجھوڑ کر جماعت کو بیدار کیا جائے اور بتایا جائے کہ دیکھو اٹھو اپنے نفس کا خیال کرو، اپنے نگران بنو، اگر تم اپنے نگران نہ بنے تو کوئی باہر کی آواز تم نہیں سن سکو گے۔اندر سے ایک مربی بیدار ہونا ضروری ہے اندر سے ایک نگران کا جاگ اٹھنا ضروری ہے۔جب یہ نگران جاگ اٹھتا ہے تو اپنی ہوش نہیں رہتی کجا یہ کہ انسان دوسروں میں کیڑے ڈالتا رہے۔جب بی نگران بیدار ہو جائے تو انکساری پیدا کرتا ہے۔انسان بے چین ہو جاتا ہے دوسروں کی بدیوں کی بجائے ان کی خوبیوں پر نظر رکھ کر ان سے موازنہ کرتا ہے اور کہتا ہے مجھ سے وہ بھی اچھا ہے، مجھ سے وہ بھی اچھا ہے۔یعنی جس بد بخت کا نگران سویا ہوا ہو وہ ہر دوسرے پر عیب جوئی کی نظر ڈالتا ہے اور دو دسروں کے عیب تلاش کر کے ان کے پیچھے اپنی برائیاں چھپا تا رہتا ہے اس کو اسی میں ہی لطف آتا ہے کہ فلاں میں بھی یہ بدی ہے اور فلاں میں بھی یہ برائی ہے، فلاں میں یہ خرابی ہے اور میں ان سے اچھا ہوں حالانکہ بسا اوقات اس میں بھی جھوٹ ہوتا ہے۔جو برائیاں وہ دوسروں میں پیش کر رہا ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ اس کے اندر موجود ہوتی ہیں۔پس اخلاق حسنہ کے پیدا کرنے سے پہلے ایک اندرونی مربی کا بیدار ہونا لازم ہے اس کے بغیر آپ کو کبھی اخلاق نصیب نہیں ہو سکتے اور سب سے اچھا سکھانے والا وہی ہے جو دل کے اندر پیدا ہوتا ہے اور دل سے جاگ اٹھتا ہے اور وہ آواز ہے جو آپ قریب سے سنتے ہیں۔اس آواز کو اگر آپ جھٹلائیں اور اس کا انکار کریں تو ممکن ہے کہ کریں، مگر دن بدن بے چینی بڑھتی رہے گی دن بدن اور زیادہ پشیمان ہوتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ خدا کے حضور روئیں گے کہ اے خدا! میری کیا حالت ہے۔میں بدی کو جانتا ہوں، پہچانتا ہوں، پھر بھی کرتا ہوں۔اور تیرے حضور میں مسلسل اس سفر میں زندگی گزار رہا ہوں کہ جانتے ہوئے کہ میرا قدم غلط سمتوں میں اٹھ رہا ہے پھر بھی وہ قدم اٹھا رہا ہوں۔یہ مربی بیدار ہونے کے بعد کی باتیں ہیں اس سے پہلے کی نہیں ہیں۔پھر وہ نفس کی پکار ، وہ بے چینیاں، وہ بے قراریاں، وہ شرمندگیاں، خدا کے حضور جب آنسو بہاتی ہیں پھر تربیت کے سامان ہوتے ہیں۔مگر بد اخلاق انسان کو تو ان مضامین کا کوئی تصور بھی نہیں کہ یہ کیا چیزیں ہیں۔نہ کبھی یہ