خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 479
خطبات طاہر جلد 13 479 خطبہ جمعہ فرموده 24 جون 1994ء محبت کو اختیار کرلے اور رسول کی محبت کا بھی یہی حال ہو کیونکہ وہ محبت بھی اللہ کے حوالے سے ہے اور یہی سلسلہ آگے چلتا ہے۔یہی محبت کا پھر یہی مطلب بن جاتا ہے کہ اگر کسی وجود سے اللہ کی خاطر پیار ہے تو اس کے مقابل پر دنیوی تعلق کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ، اس محبت کو لا ز ما اختیار کیا جاتا ہے۔آنحضور فرماتے ہیں دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے محبت کرے تو دراصل پہلی بات ہی کا منطقی نتیجہ ہے جو آگے بڑھایا جا رہا ہے اللہ کی محبت سب محبتوں پر فوقیت رکھے اور اسی محبت کے نتیجے میں رسول کی محبت ہر دوسری محبت پر فوقیت اختیار کر جائے اور پھر اسی حوالے سے اگلا قدم یہ ہو کہ سارے معاشرے میں ایک دوسرے سے تم اللہ کی خاطر محبت کرنے لگو اور جب اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرو تو یہ محبت ہر دوسری محبت پر غالب آ جائے۔اس کے بعد فرمایا ہے جو شخص کفر سے نکل آنے کے بعد دوبارہ اس میں جانے کو یہ سمجھے کہ گویا مجھے آگ کے گڑھے میں دھکیلا جا رہا ہے وہی ہے جو ایمان کی لذت کو پاتا ہے، پس ایمان کی تعریف وہ ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔کفر کی تعریف یہ ہے کہ جو ان تعلقات سے پرے ہٹ جاتا ہے اور یہی مضمون ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی کہ تم تو آگ کے کنارے پر کھڑے تھے۔ہم نے تمہیں بچایا آپس کی محبت میں باندھ کر ، ایک دل بنا کر ، ایک جان کرنے کے بعد دوبارہ اس کا تصور بھی نہ کرنا کہ پھر تم ایک دوسرے سے لڑ پڑو۔اب آپ سوچئے کہ روز مرہ کی زندگی میں کتنے ہیں جو بات بات پر بھڑکتے ہیں۔بات بات پر اپنے بھائی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔کتنے ہیں جو اپنے قریبی رشتوں کے باوجودان کا حق بھی ادا نہیں کر سکتے کجا یہ کہ وہ روحانی رشتوں کے حق ادا کریں۔پس درستی پہلی منزل پر نہیں بلکہ بنیاد میں ہوگی۔بنیادیں اگر درست نہیں تو پہلی منزل بھی درست تعمیر نہیں ہوسکتی اور اخلاق کی بنیاد روزمرہ کے خونی رشتوں میں ہے، وہ اخلاق درست ہوں تو پھر خلق آخر کی تعمیر شروع ہوتی ہے جو بعد کی آنے والی منازل ہیں کہ بالآخر اللہ کا ساتھی بنا دیتی ہیں، اللہ کا دوست بنا دیتی ہیں۔وہاں تک پہنچاتی ہیں جہاں خدا کی محبت کے بعد اور کوئی محبت قابل ذکر باقی نہیں رہتی۔پس یہ کہہ دینا تو آسان ہے کہ ہم اللہ کی خاطر کسی سے محبت کرتے ہیں لیکن اگر دنیا کی خاطر بھی محبت نہیں کر سکتے تو اللہ کی خاطر کیسے کریں گے۔اگر بھائی بہنوں کا حق ادا نہیں کر رہے، ماں باپ