خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 478
خطبات طاہر جلد 13 478 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 / جون 1994ء یہ دوسری حدیث صحیح بخاری کتاب الایمان سے لی گئی ہے۔حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ہیں جس میں وہ ہوں وہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس کو محسوس کرے گا۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول باقی تمام چیزوں سے اسے زیادہ محبوب ہو۔دوسرا یہ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے محبت کرے اور تیسرا یہ کہ وہ اللہ کی مدد سے کفر سے نکل آنے کے بعد پھر کفر میں لوٹ جانے کو اتنا نا پسند کرے جتنا کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہے۔( بخاری کتاب الایمان باب حلاوۃ الایمان - حدیث : 15) یہ وہی آگ ہے جن کا میں نے پہلے اس آیت کریمہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس آگ میں ڈالا جانا دراصل آپس میں ایک دوسرے کا دشمن ہونا، ایک دوسرے سے دلوں کا پھٹ جانا ہے اور اگر ایسا ہو تو آگ کے سوا اور کوئی انجام نہیں۔آنحضرت ملے نے اس ذکر سے پہلے آپس کی محبت کا ذکر فرمایا ہے۔پس جو تفسیر میں اس آیت کی کر رہا تھا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی آسمانی تفسیر اسی کی تائید فرما رہی ہے اور اس کی تائید میں ان دو تین باتوں کو ملا کر ایک گہرا فلسفہ بیان فرما رہی ہے۔تین نصیحتیں فرمائیں۔ایمان کی حلاوت وہی محسوس کرے گا جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول باقی سب رشتوں سے زیادہ پیارے ہوں۔رشتوں کے تعلق میں یہ وہ نئے رشتے ہیں جو روحانی زندگی میں ایک امام کے ساتھ منسلک ہونے کے نتیجے میں نئے وجود میں آتے ہیں۔انہی رشتوں کو ہم خَلْقًا أَخَرَ (المومنون : 15 ) کہہ سکتے ہیں۔قرآن کریم نے نئی روحانی زندگی کا نام خَلْقًا أَخَرَ رکھا ہے۔خلق اول کیا ہے؟ وہ عام روزمرہ کے رشتے جن میں ماں کو بیٹے سے محبت ہوتی ہے، بیٹے کو ماں سے ، باپ کو بچوں سے ، بچوں کو باپ سے وغیرہ وغیرہ۔بہن بھائیوں کے تعلقات ہیں، یہ سارے وہ طبعی رشتے ہیں جن کو خلق اول کے رشتے کہا جاتا ہے۔جب انسان حقیقت میں مومن بن جاتا ہے تو اسے ایک خلق آخر عطا ہوتی ہے قرآن کریم کے رو سے یہی اصطلاح ہے جو اس پر صادق آتی ہے۔ایک نیا جنم لیتا ہے، ایک نئے وجود کو اختیار کر لیتا ہے۔اس وجود کے بھی کچھ محبت کے قوانین ہیں اور وہ قوانین یہ ہیں کہ اللہ اور رسول کی محبت ہر دوسری محبت پر غالب آجائے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی محبت کے مقابل پر جب بھی دنیا کی کوئی محبت ٹکرائے ، اس کے سامنے کھڑی ہو ، تو اس محبت کو جو دنیا کی محبت ہے، انسان ٹھکرا دے اور اللہ کی