خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 477
خطبات طاہر جلد 13 477 خطبه جمعه فرموده 24 جون 1994ء مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ مرتبے میں اکٹھے کئے جائیں گے۔جس سے محبت ہے تم ضرور اس سے اکٹھے کئے جاؤ گے اگر کسی سے محبت ہو اور آپ اس کے لائق نہ ہوں تو اس کے ساتھ اکٹھے نہیں کئے جا سکتے۔اکٹھے کئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس سے محبت ہو انسان لازم ویسا بننے کی کوشش کرتا ہے۔اس کی محبت کی صداقت اس کی اس کوشش میں مضمر ہے کہ وہ ویسا بن سکے، اور جو ایسا کرے گا جو ویسا بنے کی کوشش کرے گا اس کو ملایا جائے گا اور اس کو مرتبوں میں بھی ملایا جائے گا، اس کو قیامت کے دن بھی اکٹھا کیا جائے گا۔پس آج آپ نے اگر وہی بننا ہے جن کا آخرین کے حوالے سے قرآن میں ذکر موجود ہے اگر آپ نے وہی بنتا ہے جن کا اس حدیث میں ذکر ہے کہ ایک شخص آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! وہ لوگ جو نہیں ملے کسی سے اور ابھی دور ہیں ان سے اگر کسی کو محبت ہو جائے ، ان دیکھوں سے ، تو اس کے متعلق کیا ارشاد ہے۔فرمایا جس سے محبت ہو وہ ملایا جاتا ہے۔اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ لازماً خواہ کیسا ہی ہو ملا دیا جائے گا۔سچی محبت کی بات ہو رہی ہے اور سچی محبت میں ملنے کا ایک طریقہ ہم صورت ہونا ہے ، ہم شکل ہونا ہے یعنی مزاج اور اخلاق میں ایک جیسا ہونا۔پس فرمایا کہ اگر واقعہ محبت ہے تو ان دونوں کے مزاج پھر ملنے شروع ہو جائیں گے۔اگر آخرین کو اولین سے محبت ہے تو وہ اولین کی نقل اتاریں گے ویسا بننے کی کوشش کریں گے۔پس جماعت احمدیہ کے لئے جہاں اس میں بڑی خوش خبریاں ہیں وہاں ذمہ داریاں بھی بہت ہیں اور ہم میں سے ہر ایک کو ہمیشہ آئینہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔جب کہا جاتا ہے کہ مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے ( ابوداؤد کتاب الادب حدیث : 4272) تو عملاً سب سے بڑا آئینہ تو محمد رسول اللہ ہیں۔محمد رسول ﷺ کی ذات، آپ کے اخلاق حسنہ کو اپنے پیش نظر رکھیں تو اپنا چہرہ داغ داغ دکھائی دے گا۔آئینے میں کوئی دوسرا وجود دکھائی نہیں دیا کرتا۔محمد رسول اللہ کے آئینے میں دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس آئینے کے حوالے سے اپنی خرابیاں سامنے آئیں گی اور جہاں کہیں ویسا حسن ملے گا اسے اور زیادہ نکھارنے کی تمنا پیدا ہوگی۔پس یہ وہ طریق ہے جس کے ذریعے سے ہم اپنے اخلاق کو اخلاق حسنہ میں تبدیل کر سکتے ہیں اور اخلاق حسنہ کو ترقی دے کر مکارم الاخلاق میں تبدیل کر سکتے ہیں یعنی وہ اخلاق جن پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا قدم تھا۔