خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 461

خطبات طاہر جلد 13 461 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جون 1994ء میں جب یہ کہا کرتے تھے کہ احمدیوں سے متنبہ رہو۔کراچی میں ساری پولیس کی توجہ احمدیوں کی طرف تھی اور ادھر کراچی میں شیعوں کے امام باڑے جل گئے۔شیعوں کو ان کے گھروں میں زندہ جلا دیا گیا تو کون لوگ گئے تھے وہاں۔کیا کوئی احمدی تھا؟ تحقیق نے کیا ثابت کیا تھا کہ احمدیوں کا کوئی دور سے بھی اس بات سے تعلق نہیں ہے۔پس جب ایک قوم جھوٹ بولنے کی عادی ہو جائے اور عملاً جھوٹ کی پرستش کرنا شروع کر دے تو جھوٹ کی ساری تدبیر میں اپنے ہی خلاف الٹا کرتی ہیں۔احمدی تو امن پیدا کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور احمدیوں سے آپ کبھی فساد کی بات نہیں دیکھیں گے۔اب آپ کہتے ہیں رانے ایسا کیا۔اب 'را کیسے وہ دشمنیاں دلوں میں پیدا کر سکتی ہے جو تاریخ کے سینکڑوں سال گواہ ہیں کہ تمہارے دلوں میں مسلسل چلی آ رہی ہیں۔کم از کم ایک ہزار سال گزر چکا ہے اس تاریخ کو کہ خود مسلمانوں نے مختلف وقتوں میں ایک دوسرے کے گھر جلائے ہیں، ایک دوسرے کی قبریں اکھاڑی ہیں ، مر دوں کو دوبارہ پھانسی دی گئی ہے اور ان کے پنجروں کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہے۔یہ ہلاکو خان کا واقعہ بھول گئے ہو۔ایک سنی دور میں جب بعض شیعوں پر مظالم ہوئے ہیں تو اس کے ردعمل کے طور پر پھر شیعہ وزیر نے انتقام لیا اور اس نے ہلاکو خان کو دعوت دی کہ آؤ اور اس ملک پر قبضہ کرو۔یہ تاریخ بتا رہی ہے۔وہاں کونسی درا تھی جو اپنا کام دکھاتی تھی؟ میں ہندوستان کے حق میں بات نہیں کر رہا، میں کسی کے حق میں بھی بات نہیں کر رہا نہ کسی کے خلاف بات کر رہا ہوں۔میں یہ سمجھا رہا ہوں کہ حقیقت حال پر نظر رکھو۔نفرتیں جہاں پرورش پاتی ہیں وہی جگہ ہے نگرانی کی اوران نفرتوں کی پرورش گا ہوں میں اگر کوئی دشمن کھس کر مزید انگیخت کرے تو وہ ایسی کوشش کر سکتا ہے اس سے انکار نہیں لیکن نفرتیں قائم ہیں تو کوشش پھر ضرور کامیاب ہوں گی اور یہ عذر قابل تسلیم نہیں ہوگا کہ فلاں نے ایسا کروایا ہے۔تم کرنے پر تیار بیٹھے تھے اور اس نے جو تلوار نیچے گری ہوئی تھی اٹھا کے تمہارے ہاتھوں میں تھا دی اس سے زیادہ تو اس کو کوئی کام نہیں۔لیکن کرنے والے تم ہو، تمہاری نیتیں ہیں جن میں زہر گھلے ہوئے ہیں، وہ نیتیں ہیں جو ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتیں، وہ آنکھیں ہیں جو ایک دوسرے کو اچھا دیکھ نہیں سکتیں، ان نفرتوں کا علاج کرو۔ان نظروں کو درست کرنے کی کوئی تدبیر کرو، ان دلوں سے نفرتیں ہٹا کر ان میں محبتوں کے رس گھولنے کی کوشش کرو، اس کے سوا کوئی علاج ہی نہیں ہے اور یہ