خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 462
خطبات طاہر جلد 13 462 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 / جون 1994ء علاج امام وقت تمہیں بتا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو حکم عدل بن کر آئے تھے وہ سلیقہ سکھا رہے ہیں کہ دیکھو اس طرح صحابہ کی بھی تعریف کرو۔اس طرح اہل بیت کی بھی تعریف کرو۔ان پر بھی درود بھیجو، ان پر بھی درود بھیجو، یہی ایک ذریعہ ہے امت کے اکٹھا ہونے کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔یقیناً ہمارے نبی خیر الوری ہے ہمارے رب اعلیٰ کی دونوں صفات رحمانیت اور رحیمیت کے مظہر تھے پھر صحابہ رضوان اللہ یھم حقیقت محمد یہ جلالیہ کے وارث ہوئے جیسا کہ پہلے تجھے معلوم ہو چکا ہے۔“ اب ان صحابہ کے ذکر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اہلِ بیت یعنی خونی رشتے کے ذریعے منسلک اور دوسروں سب کا اکٹھا ذکر فرما رہے ہیں اور تمام صحابہ کی تعریف فرما رہے ہیں اس میں نعوذ باللہ اہل بیت اس تعریف سے خارج نہیں ہوئے بلکہ جیسا کہ پہلے میں حوالہ دے چکا ہوں اول طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش نظر ہیں۔فرماتے ہیں:۔پھر صحابہ حقیقت محمدیہ جلالیہ کے وارث ہوئے جیسا کہ تجھے معلوم ہو چکا ہے ان کی تلوار مشرکین کی جڑ کاٹنے کے لئے اٹھائی گئی اور مخلوق پرستوں کے ہاں ان کی ایسی کہانیاں ذکر ہیں جو بھلائی نہ جاسکیں گی۔انہوں نے صفت محمد یہ کا حق ادا کر دیا۔اب صفت محمدیہ کو صحابہ میں رائج فرمایا ہے۔یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے۔وہ تمام صفات حسنہ جو خونی رشتوں میں تعلق رکھنے والے اہل بیت میں تھیں یا محض روحانی رشتہ میں بندھے ہوئے صحابہ میں تھیں وہ تمام خوبیاں نہ ان کی ذاتی تھیں، نہ اُن کی ذاتی تھیں وہ صفت محمدیہ کے ان میں جاری ہونے کے نتیجہ میں تھیں۔جو اس نکتہ کو سمجھ جائے وہ ایک کے مقابل پر دوسرے سے نفرت کر ہی نہیں سکتا کیونکہ صفت محمدیہ کی طرف پیٹھ دکھا کر صفت محمدیہ سے محبت نہیں کی جاسکتی۔صفت محمدیہ پر حملہ آور ہوتے ہوئے صفت محمدیہ کے عشق کے گیت نہیں گائے جاسکتے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الله الصلوۃ والسلام نے کس اعلیٰ پیرائے میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہی کو صحابہ میں جلوہ گر دکھایا۔فرمایا ہے وہاں بھی سیرت محمد یہ کام کر رہی ہے۔اے سیرت محمدیہ کے عشاق ! کیا تم سیرت