خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 453 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 453

خطبات طاہر جلد 13 453 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 / جون 1994ء تھا اور صحابہ کا کیا مقام تھا۔فرماتے ہیں:۔حضرت عیسی اور امام حسین کے اصل مقام اور درجہ کا جتنا مجھ کو علم ہے دوسرے کو نہیں ہے۔‘“ اب عیسی اور امام حسین کا کیا جوڑ ہے۔نبیوں میں اپنی جان کی عظیم قربانی پیش کرنے میں عیسیٰ کو ایک عجیب مرتبہ اور عجیب مقام حاصل تھا۔نبیوں میں وہ ایک منفرد مقام ہے جو محمد رسول اللہ اللہ سے پہلے گزرے ہیں جس طرح جس شان کے ساتھ حضرت عیسی نے حق کی خاطر اپنی جان کی قربانی پیش کی ہے اور صلیب کی اذیتیں قبول کی ہیں۔پس دیکھیں ایک عارف باللہ کا کلام کس طرح ان باتوں کو جوڑتا ہے جس طرف ایک ظاہری نظر رکھنے والے کا تصور بھی نہیں جا سکتا۔فرماتے ہیں:۔د عیسی اور امام حسینؓ کے اصل مقام و درجہ کا جتنا مجھ کو علم ہے دوسرے کو نہیں ہے کیونکہ جو ہری ہی جو ہر کی حقیقت کو سمجھتا ہے اس طرح پر دوسرے لوگ خواہ وہ امام حسین کو سجدہ کریں مگر وہ ان کے رتبہ اور مقام سے محض نا واقف ہیں اور عیسائی خواہ حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا یا خدا جو چاہیں بنا دیں مگر وہ ان کے اصل اتباع اور حقیقی مقام سے بے خبر ہیں اور ہم ہرگز یہ باتیں تحقیر سے نہیں کہہ رہے۔“ ان کی تحقیر مراد نہیں بلکہ امر واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ مسیح کا جو حقیقی مرتبہ میرے دل پر روشن ہوا ہے اور حسین کا جو حقیقی مرتبہ میرے دل پر روشن ہوا ہے وہ ان کے سجدہ کرنے والوں کے دلوں پر بھی روشن نہیں اور سجدہ کرنا خود بتاتا ہے کہ مقام سے بے خبر ہیں۔پس اسی فقرہ میں اپنے کلام کی تائید میں ایک محکم دلیل بھی داخل فرما دی۔وہ شان کیا ہے۔فرماتے ہیں:۔میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک نا پاک طبع دُنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے وہ معنے اس میں موجود نہ تھے۔“ یہ ہے اعلان حق کوئی پرواہ نہیں کہ سنی اس سے خوش ہوتے ہیں یا ناراض ہوتے ہیں حالانکہ