خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 444 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 444

خطبات طاہر جلد 13 444 خطبه جمعه فرموده 10 جون 1994ء اجازت دی جائے کہ اب ہم ان کا ایک آدمی قتل کر دیں۔آپ نے فرمایا نہیں گواہ لاؤ۔اب یہ غضب کی بات ہے کہ دنیا کے لحاظ سے تو غضب نہیں رحمت کی باتیں ہیں لیکن آنحضرت ﷺ کا غضب بھی ایسے کریموں کا غضب تھا جس کریم سے بڑھ کر کسی کریم کا تصور ہو ہی نہیں سکتا اور وہ غضب عدل کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہوا۔پس یہ بات یا درکھیں شدید نفرت بھی ہوتب بھی عدل کی راہ میں وہ نفرت حائل نہیں ہو سکتی۔خواہ اس نفرت کا نام آپ لگہی نفرت رکھیں۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ گواہی کیسی ، وہ تو سب یہودی ہیں ہم قوم ہیں، ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ تو گواہی نہیں دیں گے۔آپ نے فرمایا اگر وہ گواہی نہیں دیں گے تو میں بھی فیصلہ نہیں دوں گا مجھے عدل پر قائم کیا گیا ہے۔پس نفرت جو عدل کو میلی آنکھ سے دیکھ ہی نہیں سکتی اس نفرت کی تعلیم ہے قرآن کریم اس مضمون کو کھول کر بیان فرماتا ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى (المائدہ:9) یہاں شنان قوم سے مراد دشمن کی نفرت آپ سے ہے۔فرمایا ایک قوم آپ سے نفرت کرتی ہے اور اس کی دشمنیاں مسلم ہیں، ہوتی چلی آئی ہیں۔ان نفرتوں کے حوالے سے بھی آپ کو عدل سے ہٹنے کی اجازت نہیں۔پس نفرت کریں، وہ نفرت کریں جو رحمتہ للعالمین نے کی تھی اور آپ کی نفرت غلط اداؤں سے تھی ایسی بے ہودہ حرکتوں سے نفرت تھی جن سے خدا کو نفرت ہوتی ہے۔تو دراصل ان بے ہودہ اداؤں والا وجود عملاً رستے سے ہٹ جاتا ہے اور وہ نفرتیں نمایاں ہو کر خدا کی خاطر نفرت کرنے والوں کی نظر میں آ جاتی ہیں ان سے نفرت کرتا ہے۔ان سے دور رہتا ہے اور اس کا فیض یہ پاتا ہے کہ خودان بدیوں سے پاک ہونے لگتا ہے۔ان بدیوں کے مالک سے نفرت نہیں۔یعنی ان معنوں میں نفرت بہر حال نہیں کہ اس کا برا چاہیں، اس کو گزند پہنچانے کی اجازت ہو، اس کو گالیاں دیں،اس کی عزت نہ کریں، آنحضرت ﷺ تو بڑے سے بڑے دشمن کے آنے پر بھی جب کوئی آپ کے ہاں آتا تھا اٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے اس کا اعزاز فرمایا کرتے تھے۔باہر سے غیر مسلموں کو عیسائیوں کے وفد کو آپ نے اپنی مسجد میں عزت کے ساتھ ٹھہرایا اور وہیں اس سے گفتگو فرماتے تھے۔پس یہ جو خیال ہے کہ اللہ کی خاطر نفرت، مارو کوٹو ، یہ تو مولویانہ خیال ہے، قرآن کا تو اس سے کوئی تعلق ہی نہیں۔پس اللہ کی خاطر محبت کریں اور اللہ کی خاطر نفرت کا یہ معنی نہ لیں۔آپ کو اس کی اجازت