خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 445

خطبات طاہر جلد 13 445 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جون 1994ء نہیں ہے کہ ہم اس امام سے اس لئے نفرت کرتے ہیں ہم نے نمازیں پیچھے پڑھنی چھوڑ دی ہیں کہ یہ برا آدمی ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم الہی بغض کریں۔اس حوالے سے میں بات کر رہا ہوں اب بھی مجھے بعض دفعہ لکھتے ہیں مگر پہلے تو مجھے روز مرہ یہ تجربہ ہوا کرتا تھا۔میں پاکستان کی جماعتوں میں ہر ذریعے سے پہنچا ہوں۔سائیکلوں پہ بھی ، گھوڑوں پر بھی ، بسوں پہ بھی ، کاروں پر بھی ، گاڑی کے ذریعے بھی۔بہت سفر کیا ہے اور وہاں جہاں جہاں اختلاف ہوتا تھا وہاں بعض لوگ جو کچھ دین کا علم رکھتے ہیں یہ آگے سے حوالہ دیا کرتے تھے کہ تہی بغض ہے ہمیں تو کوئی نفرت نہیں ہمارا تو ذاتی طور پر کچھ نہیں ، یہ غلط آدمی اوپر آ گیا جماعت کے اوپر اور اس کی بے ہودہ ذلیل حرکتوں کی وجہ سے ہمیں اس سے نفرت ہے۔اس کو ہم کہتے ہیں لہی بغض۔ایسا للہی بغض جس کا رسول اللہ ﷺ کوعلم نہیں تھا تمہیں علم ہو گیا ، صلى الله ہے۔پس اپنی تعریفیں ایسی نہ بنائیں جو محمد رسول اللہ کی تعریفوں سے ہٹ جائیں وہ جھوٹی اور لعنتی تعریفیں ہیں۔وہ آپ کو بھی جھوٹا اور لعنتی کر دیں گی۔وہ محبت کریں ہلہی محبت ، جو محبت محمد رسول اللہ نے کر کے دکھائی ہے اور وہ نفرت کریں لہی نفرت جو حضرت محمد رسول اللہ نے کر کے دکھائی اور ان نفرتوں کے ہوتے ہوئے بھی آپ رحمتوں کی بارش برسانے والے وجود تھے۔جن سے للہی نفرت ہوتی تھی ان کے لئے دعائیں کرتے ، ان پر رحمتیں برساتے۔ایسی نفرتیں کریں جو ساری دنیا میں آپ کی نفرتیں وہ عظیم انقلاب برپا کر دیں گی جو دنیا کی محبتیں بھی نہیں کر سکتیں۔یہ نفرتیں بھی دلوں کو باندھنے والی نفرتیں بن جاتی ہیں نہ آپ کی محبت دلوں کو توڑنے والی رہے گی نہ آپ کی نفرت دلوں کو توڑنے والی رہے گی۔صلہ رحمی کی وہ آخری بات جو آنحضور نے فرمائی وہ اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوگی اور تمام دنیا ایک امت واحدہ ہی نہیں بلکہ ایک وسیع عالمی روحانی گھر میں تبدیل ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔