خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 440

خطبات طاہر جلد 13 440 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 / جون 1994ء الله مضمون کا بھی فرق ہے۔پہلی حدیث میں صرف لہی محبت کی بات تھی۔یہاں اس مضمون کو مزید کھول دیا گیا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ یہی محبت ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت نہ ہو۔جو بات میں آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں اسی کے ثبوت کے طور پر یہ حدیث پیش کر رہا ہوں کہ اس میں تمام وہ تعلقات داخل ہوتے ہیں۔جو اللہ کی محبت کے نتیجہ میں بنی نوع کی محبت کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر درجہ بدرجہ ان سے جب تعلق بڑھتا ہے تو حقیقت میں اللہ کی محبت کے اظہار ہو رہے ہوتے ہیں۔پس آنحضور ﷺ نے قطعی نشانی یہ بیان فرما دی کہ جو بھی اللہ اور رسول کی محبت کی خاطر کسی بھائی سے محبت نہیں کرتا اس کے دل میں ایمان نے جھانکا بھی نہیں۔اس کو پتا بھی نہیں کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ یقیناً ایمان کا سب سے مضبوط کڑا یہ ہے کہ تو اللہ کی خاطر محبت کرے اور اسی کی خاطر نفرت کرے۔اس میں بھی وہی مضمون ہے جو میں بیان کر چکا ہوں لیکن ایک کا اضافہ اور ہے اور وہ ہے نفرت کا۔بسا اوقات احمدی جب یہ مختلف جلسوں پر نمایاں طور پر لکھ کر لگاتے ہیں کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی کے لئے نہیں تو اس سے لوگوں میں ایک بڑی کشش پیدا ہوتی ہے اور لوگ ملتے ہیں۔ایک دفعہ ایک اخباری نمائندے نے ایسے ہی اعلانات دیکھ کر مجھ سے معین سوال کیا کہ کیا واقعہ سب سے محبت رکھتے ہیں اور نفرت کسی سے نہیں۔میں نے کہا نہیں۔اس نے کہا پھر یہ لکھ کے کیا لگایا ہوا ہے۔میں نے کہا آپ اس کا مفہوم نہیں سمجھے۔مراد یہ ہے کہ عمومی طور پر جہاں ابھی ہمیں پتا نہیں کہ کوئی کیا چیز ہے ہم بنی نوع انسان میں سب سے محبت ہی کرتے ہیں اور کسی سے نفرت نہیں کرتے۔کوئی رنگ، کوئی نسل کوئی مذہب ، ہمارے لئے نفرت کا پیغام لاتا ہی نہیں ہے۔ہم سب سے محبت کرتے ہیں لیکن جو اللہ سے نفرت کرے اس سے ہم نفرت کرتے ہیں۔وہ اور مضمون ہے یہ اور مضمون ہے۔ان دونوں کو خلط ملط نہ کرو۔وہ پھر سمجھ گیا اس نے کہا ٹھیک ہے میں بات سمجھ گیا ہوں یہ درست ہے۔اور اسی لئے غالبا اس نے سوال بھی کیا تھا کہ یہ تو غیر فطرتی بات ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہر ایک سے محبت ہو خواہ آپ کو جن سے محبت ہے ان سے کوئی شخص نفرت بھی کر رہا ہو۔یہی وہ مضمون ہے جو حضرت جل شانہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو سمجھا کر اپنے باپ کے لئے دعا سے روکا۔جہاں تک حضرت ابراہیم کی دعا کا تعلق ہے اس دعا میں ہی آپ نے یہ عرض کیا تھا کہ اے خدا میں اپنے باپ کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہوں وہ صراط مستقیم سے ہٹا ہوا تھا، وہ بھٹکا ہوا تھا،