خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 38

خطبات طاہر جلد 13 38 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 جنوری 1994ء تو فرماتے ہیں۔اللهم لک الحمد کما گسوتنیہ۔اے میرے اللہ تیرے ہی لئے سب حمد ہے جو تو نے مجھے یہ لباس پہنایا ہے۔پھر آئینہ دیکھتے تھے تو دعا کرتے تھے۔اللَّهُمْ كَمَا حَسَّنَتَ خَلْقِي فَاحْسِنُ خُلْقِي (مسند احمد صفحہ: 150) اے میرے اللہ جیسے تو نے میرا چہرہ خوب صورت بنایا ہے ویسے ہی میرا اندرونہ بھی پاکیزہ کر۔خوب صورت بنادے میرے اخلاق کو خوب صورت کر دے۔اب یہ وہ ایک موقع ہے جس سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ظاہری چہرے کی ایک جھلک ہمیں دکھائی دینے لگتی ہے ورنہ اتنے منکسر مزاج تھے کہ انسان سوچ نہیں سکتا کہ اپنے حسن کی بات کریں لیکن سچے بھی اتنے زیادہ تھے یہ مشکل تھی۔اپنے خدا کی حمد بیان کرنی تھی وہاں تو سچ بولنا ہی بولنا تھا چاہے اس سے شرمندگی ہی ہوتی تو اللہ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں میں نے چہرہ دیکھا ہے بہت خوب صورت ہے میں تیرا بے حد ممنون ہوں اتنا پیارا چہرہ تو نے مجھے عطا کیا پس میرے خُلق کو بھی ایسا ہی بنا دے۔وَحَرِّمُ وَجْهِی عَلَى النَّارِ اور میرے چہرے کو آگ پر حرام کر دے۔یہاں ایک نیا انداز بیان ہے یہ نہیں فرمایا کہ آگ کو میرے چہرے پر حرام کر دے بلکہ فرمایا کہ میرا چہرہ آگ پر حرام کر دے۔آگ کو اجازت نہ ہو کہ اس چہرے کو جلائے بہت ہی زیادہ عظیم الشان کلام ہے۔بہت قوت والا کلام ہے۔کہیں آگ ہو کوئی آگ ہو لیکن اسے مجال نہ ہو کہ وہ میرے چہرے کو جلا سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ایک دفعہ اسی طرح کا الہام ہوا تھا کہ: آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔“ ( تذکرہ:324) ہے۔“ تو یہ وہی مضمون ہے کہ آگ کو اجازت نہ ہو کہ وہ مجھے جلا سکے۔الحمد لله الَّذِي سَوَّى خَلْقِیٰ بہت ہی قابلِ تعریف ہے وہ ذات جس نے میری تخلیق کو میرے وجود کو مناسب بنایا وَأَحْسَنَ صُورَتِی اور میری صورت کو بھی ایسا خوب صورت بنایا مِنِّى مَا شَأْنَ مِنْ غَيْرِى اور جو کچھ غیروں کو نصیب نہیں ہو سکا حسن کی صورت میں جو ان کے ہاں بدصورتی ہے وہ میرے ہاں تو نے حسن رکھ دیا یعنی ہر وہ عضو جہاں کسی بھی قسم کی غیر بدصورتی کا حامل ہے وہاں وہی میرا عضو حسین تر ہے۔یہ جو کلام ہے بہت گہرائی کا کلام ہے اصدق الصادقین کا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا تمام وجود سر تا پا حسین تھا ورنہ دعا کے وقت یہ کلام آپ نہیں کہہ سکتے تھے جس کے مقابل پر ہر دوسرے میں کہیں نہ کہیں کوئی بدی دکھائی جائے گی مگر یہ وجود ہر سقم ہر