خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 431
خطبات طاہر جلد 13 431 خطبه جمعه فرموده 10 / جون 1994ء یاد ہے تبھی شروع میں یہ دعویٰ کیا کہ میں جو کچھ بیان کروں گا لفظ لفظ وہی ہے جو حضور اکرمے سے میں نے سنا ہے۔آخر پر پہنچ کر اگر شک ہے تو دراصل یادداشت کا شک نہیں مضمون کا شک پڑا ہے۔آنحضور تولہی محبت کی باتیں کرتے ہیں تمام دنیا کے ہر قوم سے تعلق رکھنے والے اس محبت میں باندھے جاتے ہیں وہاں رشتوں کی محبت کی کیا بحث ہے۔لیکن صلہ رحمی کا اس سے گہرا تعلق ہے کیونکہ قرآن کریم عدل اور احسان کے بعد ایتاء ذی القربی کی بات کرتا ہے۔احسان میں کون سے خونی رشتے ہوتے ہیں۔احسان کا مضمون ہی دراصل عالمگیریت سے تعلق رکھتا ہے۔تمام بنی نوع انسان کے ساتھ یہ مضمون برابر تعلق رکھتا ہے اور کوئی فرق نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر ایسی بات کہہ کر احسان کا مضمون بیان کر کے جس کا بنی نوع انسان سے اور انسان کی عالمگیریت سے تعلق ہے اچانک مضمون کا رخ صلہ رحمی کی طرف پھیر دینا اور ایتاء ذی القربی کا ذکر کر دینا کیا معنے رکھتا ہے۔جو معنے وہاں رکھتا ہے وہی یہاں معنے رکھتا ہے۔مراد یہ ہے کہ یہی محبت پھر ایسی بڑھی کہ اس میں پھر سوچوں کے دائرے ختم ہو جائیں۔یہ سوچ کہ ہمیں محبت ہونی چاہئے۔یہ اگر کام دکھا رہی تھی تو خود غائب ہو جائے اور اس کی جگہ ایک ایسا تعلق لے لے جس میں سوچوں کا کوئی دخل نہیں ہوا کرتا۔ماں بیٹے سے محبت کرتی ہے تو یہ سوچ کر تو نہیں کرتی کہ مجھے محبت کرنی چاہئے۔بیٹا ماں سے پیار کرتا ہے یہ سوچ کر تو نہیں کرتا کہ مجھے پیار کرنا چاہئے۔اسی طرح رحمی رشتوں کا حال ہے۔تو فرمایا کہ صلہ رحمی کر و یعنی بنی نوع انسان کے ساتھ اللہ کی خاطر ایسا تعلق قائم کرو کہ وہ تمہارے خونی رشتے بن جائیں اور خونی رشتوں کی طرح پاک صاف اور دلیل کے احتیاج سے بالا ہو جائیں، کوئی دلیل کی ضرورت نہ رہے، از خود تعلق دل سے پھوٹے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں جماعت احمد یہ اس مضمون کے اطلاق کا ایک زندہ اور پاکیزہ نمونہ ہے۔آپ بے شک اپنی یادوں کو کرید کر دیکھیں۔آپ نے جب جلسوں میں شرکت کی ہے جہاں لڑہی لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو کبھی آپ نے کسی افریقہ سے آئے ہوئے سے اس لئے محبت نہیں کی کہ مجھے کرنی چاہئے۔کسی بھی آئی لینڈ کے دوست سے یہ تعلق نہیں باندھا کہ چونکہ ایسا ہونا چاہئے اس لئے میں تعلق کروں گا۔دل سے از خود محبت پھوٹتی ہے۔اسی طبیعی محبت کا نام صلہ رحمی