خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 423

خطبات طاہر جلد 13 423 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جون 1994ء ایسی جگہ دیں کہ پھر کبھی آپ کے دل سے جدا نہ ہوں۔ان کی روشنی میں اپنے آپ کو دیکھیں سب الله سے بڑا آئینہ تو محمد رسول اللہ ﷺے ہیں۔محمد رسول اللہ ﷺ کے چہرے کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں پھر پتا چلے گا کہ آپ کیا ہیں اور یہ وہ سارے حسن ہیں جو اس آئینے میں محمد رسول اللہ ﷺ کے حسن آپ کو دکھائی دیں گے۔جہاں جہاں آپ میں کمی ہے یہ حسن آپ کو بتائیں گے اور کسی نفرت کے ساتھ نہیں بلکہ محبت اور پیار اور شفقت اور رحمت کے ساتھ، رافت کے ساتھ بتائیں گے کہ دیکھو میں تو یہ ہوں اگر تم میری پیروی کرنا چاہتے ہو تو ایسا بنے کی کوشش کرو۔پس آنحضور ﷺ یہ ایک مثال دیتے ہیں کہ غیر حاضری میں اپنے بھائی کے مال کی حفاظت کرو جب اور کوئی اس کی حفاظت کرنے والا نہ ہو اور پھر اس مثال کو ایک بہت ہی حیرت انگیز طور پر دل پر گہرا اثر کر نے والی کہانی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔کہانی نہیں یعنی ایک قصہ، واقعہ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔صلى الله ایک لمبی حدیث ہے جس میں تین آدمیوں کا ذکر ہے جو ایک غار میں رات بسر کرنے کے لئے داخل ہوئے اور زلزلہ آیا یا اور آندھی یا طوفان کے نتیجے میں وہ غار جس کے منہ سے پتھر سر کا ہوا تھا وہ رات کو ان کے سوتے میں غار کے منہ پر آپڑا اور اتنا بھاری تھا کہ وہ اس کو ہلا نہیں سکتے تھے۔تب ان تینوں نے یہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے کسی ایسے نیک عمل کا حوالہ دے کر اس سے عاجزانہ عرض کریں کہ اے خدا اگر یہ سچا واقعہ ہے جو ہم بیان کر رہے ہیں اور اگر تیرے سوا کسی اور کی خاطر ہم نے یہ نہیں کیا، محض تیرے جلال کی خاطر اور تیرے تعلق کی خاطر ہم نے ایسا کیا تھا تو پھر تو ہم سے رافت کا معاملہ فرما اور ہم اس پتھر کو نہیں ہٹا سکتے تو اس پتھر کو ہٹا دے۔جب ایک شخص نے اپنا واقعہ بیان کیا تو چونکہ وہ سچا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابل پر 1/3 حصہ پتھر کو ایک طرف سر کا دیا یعنی ابھی انسان گزر نہیں سکتا تھا مگر شگاف پیدا ہو گیا۔پھر دوسرے نے واقعہ بیان کیا پھر اللہ تعالیٰ نے انہی آسمانی ذرائع سے جن سے پتھر غار کے منہ میں آیا تھا ان کو حرکت دیتے ہوئے انہی کے ذریعہ سے پتھر کو اور سر کا دیا لیکن ابھی وہ باہر نہیں جاسکتے تھے۔ایک شخص جس نے اپنا واقعہ بیان کیا اس کا معاملات سے تعلق۔اور اسی حدیث سے ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کر چکا ہوں ، اسی کی تشریح ہے۔اس پر تیسرا آدمی بولا ابھی آخری حصہ باقی تھا اور نکل نہیں سکتے تھے اگر یہ تیسرا آدمی کچھ نہ بیان کرتا تو گویا وہ پتھر وہیں پڑا رہتا کہ اے میرے اللہ میں نے کچھ مزدور رکھے تھے اور کام لینے کے بعد ان کو مزدوری ادا کر دی ہے