خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 413
خطبات طاہر جلد 13 413 خطبه جمعه فرموده 3 جون 1994ء میں سے بہت سے ذہنی تعیش کا ذریعہ بنا کر اس مضمون سے مزا اٹھاتے اور بھول جاتے۔ میں سمجھانا صلى الله چاہتا ہوں کہ یہ مضمون ! یہ مضمون اخلاق سے تعلق رکھتا ہے اور اخلاق کے بغیر نہ آنحضرت ت سے تعلق ہو سکتا سہ ہے نہ آپس کا تعلق ہو سکتا ہے اور اس کی ضرورت آج پہلے سے سب سے زیادہ بڑھ کر ہے کیونکہ جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے اب اس تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ دشمن بالکل ہکا بکا ہو گیا ہے۔ شرارت کے منصوبے بنا رہا ہے حسد کی آگ میں جل رہا ہے لیکن اس کی کچھ پیش نہیں جاتی ، حکومتوں کی سطح پر مشورے ہو رہے ہیں اور ہمیں اللہ کے فضل سے ان کی اطلاعیں ملتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیچ و تاب کھاتے ہوئے چاہتے ہیں کہ جس طرح بھی چاہیں جہاں جہاں چاہیں جماعت کو ڈسیں اور ایک کشش ان کی وہی ہے جو میں نے بیان کی کہ جماعت میں افتراق پیدا کرنے کے لئے قرآن کریم کی آیات سے غلط نتائج نکال کر ان کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ قرآن کریم کی کوئی ایک آیت بھی اگر مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لئے استعمال کی جائے تو وہ ہر گز قرآن کا مفہوم نہیں ہے جو آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے وہ شیطان کی باتیں ہیں کیونکہ قرآن تو اکٹھا کرنے کے لئے آیا ہے نہ کہ منتشر کرنے کے لئے۔ پس ہر وہ حوالہ جو قرآن کا حوالہ ہو اور آپ کے اندر آپس میں تفریق پیدا کرتا ہو۔ آپ کی جمیعت کو منتشر کرنے والا ہو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے انگریزی میں کہا بعض دفعہ شیطان الہی کتب کے اور صحیفوں Devil quotes the Scriptures جاتا ہے کہ کے حوالے دیتا ہے اور اس کے حوالے دینے اور ایک نیک انسان کے حوالے دینے میں فرق یہ ہے کہ شیطان شیطانی منتائج نکالتا ہے اور نیک انسان نیک نتائج نکالتا ہے اور درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ پس قرآن کریم کی ہر وہ تشریح جو آپ کے دلوں میں محمد رسول اللہ کی محبت پیدا کرے قرآن کو محمد رسول اللہ سے الگ نہ کرے بلکہ ایک ہی دکھائے اور پھر آپ پر واجب کرے کہ آپ محمد رسول اللہ کو مضبوطی سے تھام لیں یہی حقیقت میں حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کے معنی ہیں اور پھر آپ کو سمجھائے کہ قرآن کی تعلیم کے مطابق اگر خدا ایک ہے تو اس کے ماننے والے اس دنیا میں بھی ایک ہو جانے چاہئیں ۔ یہ معانی الہی معانی ہیں یہی ہیں جو قرآن کا مقصود ہیں۔ ان کا شیطان سے کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن یہ کام بڑی محنت کا کام ہے محض بات سن کر سر ہلا دینے سے یہ مسئلہ طے نہیں ہو گا