خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 412

خطبات طاہر جلد 13 412 خطبه جمعه فرموده 3 جون 1994ء صلى الله صلى الله وہ سارے لوگ جو آنحضور ﷺ کے قریب ہو رہے ہیں صفات کے رستوں سے ، ان کے اندر بھی وہ صفات جلوے دکھانے لگتی ہیں اور وہ آنحضور ﷺ کے قریب ہی نہیں ہور ہے ہوتے بلکہ ایک دوسرے کے بھی قریب ہے ریب ہو رہے ہو ۔ ہوتے ہیں اور یہی وہ اخوت ہے جس کی طرف قرآن کریم بار بار آپ کو بلا رہا ہے۔ وہ اخوت حضور ﷺ کے تعلق کے بغیر آپ کو نصیب نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے قرآن کریم نے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کی تلقین حضرت محمد ﷺ سے فرمائی ہے اور احادیث میں خود حضور ﷺ نے بھی اور اس کے تعلق میں معا بعد یہ مضمون چلتا ہے کہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے محبت کرو۔ یہ دو تین باتیں الگ الگ نہیں ہیں ایک مرکزی مضمون کی شاخیں ہیں ، جوں جوں اس مضمون میں آپ آگے بڑھتے ہیں اور رستے دکھائی دیتے ہیں اور خوب صورت نظارے آپ کو نظر آئیں گے۔ مگر جس طرح ایک درخت جس کی جڑیں مضبوطی سے زمین میں ہوں اس کی شاخیں الگ الگ پھیل کر اپنی اپنی بہار دکھا رہی ہوں الگ دکھائی دینے کے باوجود وہ ایک ہی درخت کی شاخیں ہوتی ہیں اور درخت کے وجود سے ان کو الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ اسی طرح امت محمد یہ بنتی ہے اور اس طرح امت محمد یہ پھیلنا شروع ہوتی ہے۔ پھر وہ پھولتی ہے اور تمام ایک ہی وجود کی شاخیں ہیں ۔ اسی مضمون کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے حوالے سے یوں بیان فرمایا کہ اے میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! کہ میں وہ درخت ہوں جس نے عشق محمد مصطفی سے سیراب ہونے کے بعد دوبارہ دنیا میں ایک نئی رونق پائی ہے۔ ایک نئی بہار دیکھی ہے اور اے افراد جماعت جو مجھ سے تعلق رکھتے ہو تم میرے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہو۔ پس شاء شاخوں کا آپس کا تعلق براہ راست ممکن ہی نہیں جب تک درخت کے ساتھ تعلق نہ ہو اور یہ درخت انبیاء ہوا کرتے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتے اور ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں ۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جس امام کی بعثت کی خبر دی تھی اس امام کے آنے کا سب سے بڑا مقصد یہ منتشر بکھرے ہوئے لوگوں کو پھر آنحضرت ﷺ کے وجود کے ساتھ ملحق کرے، منسلک کرے اور ایک صلى علي صلى الله یہ تھا کہ بنادے یہاں تک کہ وہ جمیعت جو دنیا سے جاتی رہی وہ پھر دوبارہ اسلام کو نصیب ہو۔ یہ مضمون میں نے عمد اتعلق اخلاق حسنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے ورنہ اگر اس کے بغیر بیان کرتا تو آپ لوگوں