خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 410
خطبات طاہر جلد 13 410 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 /جون 1994ء جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اگر ایک انسان کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی عادات کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے حسن کو اپنی ذات میں داخل کرنے کی اور رائج کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم خلق آدمی ایک دوسرے سے قریب ہو جاتے ہیں۔جو جھوٹے ہیں وہ جھوٹوں کے قریب ہو جاتے ہیں۔جو سچے ہیں وہ بچوں کے قریب ہو جاتے ہیں۔جو بنی نوع انسان سے پیار کرنے والے ہیں وہ از خود بنی نوع انسان سے پیار کرنے والوں کے ساتھ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔جو بعض دوسری خوبیاں رکھتے ہیں اگر آرٹسٹ ہیں تو آرٹسٹ کے ساتھ اکٹھا ہو جائے گا۔چنانچہ کہتے ہیں کہ پرندے بھی اپنے ہم جنس پرندوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں۔پس حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلى الله کے ساتھ ایک ہونا اور جمع ہونا کوئی فرضی کہانی نہیں ہے۔آپ وہ خلق اختیار کریں تو آپ محمد رسول اللہ کے قریب ہوں گے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جوابا آپ سے محبت کرنے لگیں گے۔یہ محبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر منعکس ہوگی کیونکہ روحوں کی محبتیں خدا کے تعلق سے صلى الله پھر دنیا میں جلوے دکھاتی ہیں اور اس طرح آپ کے تعلق آنحضور ﷺ سے بڑھتے چلے جائیں گے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللہ کی یہ حقیقت ہے۔اس حقیقت کو بھلا کر آپ کو کچھ پتا نہیں چلے گا کہ کیسے اس رسی پر مضبوطی سے ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے ورنہ کہنے والے تو بہت کہتے ہیں کہ صرف قرآن کو پکڑ لوکسی جمیعت کی ضرورت نہیں ہے۔صلى الله اب جب میں جرمنی کا دورہ کر رہا تھا تو بعض سکھائے پڑھائے امام، ان بوسنیز کو جو احمد بیت سے بہت محبت کرنے لگے ہیں اور قریب آ رہے ہیں، ان کو اس آیت کے حوالے سے متفرق ہونے کی تعلیم دے رہے تھے۔کیسی جاہلانہ بات ہے قرآن تو اس ہدایت کے ذریعے منتشر اور متفرق لوگوں کو اکٹھا ایک ہاتھ پر جمع کرتا ہے اور جو دل میں کبھی رکھتا ہے وہ اسی آیت کے حوالے سے ان کو پھر دوبارہ منتشر اور متفرق ہو جانے کی ہدایت دے رہا ہوتا ہے۔چنانچہ موقع پر اس کا جب مؤثر جواب دیا گیا تو ان سب کے جنہوں نے جواب کو سنا چہرے کھلکھلا اٹھے اور ایک بھی ایسا نہیں تھا جو پہلے سوال سے متاثر ہوکر جماعت سے دور ہو گیا ہو کیونکہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا میں جمیعت کی طرف اشارہ ہے، جو ایک مرکزیت چاہتی ہے۔جمیعت فردا فردا قرآن کریم کو پکڑ لینے کا نام نہیں ہے اور یہ تو جمیعت کو بکھیر نے والی اور منتشر کرنے والی باتیں ہیں۔قرآن اگر ایک ہاتھ پر