خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 408

خطبات طاہر جلد 13 408 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جون 1994ء بچوں سب سے یکساں تعلق رکھتی ہیں اور یہ وہی مضمون ہے جو میں اس سے پہلے خطبات میں ایک سلسلے کے طور پر شروع کر چکا ہوں۔یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے جمیعت کے طور پر تھام لو یعنی ایک ایک کر کے ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر تھام لو۔یہ آیت جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس مضمون پر روشنی ڈال رہی ہے۔اس کے ایک حصے پر پہلے میں گفتگو کر چکا ہوں ، اب میں خصوصیت سے اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رسی کو تھا منے کا نہیں فرمایا بلکہ جَمِیعًا تھا منے کا فرمایا ہے۔اس سے بہت سے لوگوں کے ان وساوس کا جواب آ جاتا ہے کہ ہم جب خودا اپنے طور پر اچھے مسلمان ہیں، قرآن کریم پر مضبوطی سے ہاتھ ڈالا ہوا ہے اور تمام اوامر پر عمل کرتے ہیں، تمام نواہی سے رکتے ہیں، جس بات کا اللہ حکم دیتا ہے اسے ادا کرتے ہیں، جس سے رکنے کی ہدایت ہے ہم رک جاتے ہیں تو کیا ضرورت ہے کسی اور اجتماع کی؟ کیا ضرورت ہے کسی جماعت سے تعلق باندھنے کی؟ تو اس کا جواب قرآن کریم کی یہ آیت ایک لفظ میں دے رہی ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا انفرادی طور پر اس کتاب پر ہاتھ ڈالنا کافی نہیں بلکہ جمیعت کے طور پر اس کتاب پر ہاتھ ڈالنا ہے، ایک جماعت کے طور پر، تا کہ خدا کی وحدانیت کا جلوہ اس دنیا میں بھی ظاہر ہو اور جیسا کہ وہ ایک ہے اسی طرح اس کے ماننے والے بھی تمام تر ایک ہوجائیں۔یہ جو مضمون ہے اس کو میں نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے حوالے سے بیان کرنا شروع کیا ہے۔قرآن کریم پر براہ راست عمل تو تبھی ممکن ہے کہ اگر براہِ راست انسان قرآن کریم کے علوم پر اطلاع پا سکے قرآن کریم کے اوامر و نواہی سے جیسا کہ حق ہے، جیسا کہ اللہ چاہتا ہے، عمل کرنے یا رک جانے کا تعلق ان کے بچے عرفان سے ہے ان کی بچی تفہیم سے ہے اور اگر سچی تفہیم نہ ہو تو انسان کچھ نہیں سمجھ سکتا کہ میں کس چیز سے رکوں اور کیسے رکھوں۔کس پر عمل کروں اور کیسے عمل کروں۔پھر اس کے علاوہ قرآن کی ایک روح ہے اور وہ براہِ راست ہر شخص کو عطا نہیں ہوسکتی وہ روح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی روح میں مدغم ہے اور یہاں ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔خواہ اس کا نام قرآن رکھیں یا محمد رکھیں، درحقیقت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب پوچھا گیا کہ آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان