خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 402 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 402

خطبات طاہر جلد 13 402 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء انسانوں کے دلوں تک سرایت کر جاتی ہے۔پس حضوراکرمﷺ کی نصیحتوں کو بڑی مضبوطی سے تھام لیں۔یہی حبل اللہ ہے حقیقت میں۔اسے پکڑ لیں تو پھر کبھی منتشر نہیں ہوں گے۔فرماتے ہیں دیکھو جب تیسرا آدمی بیٹھا ہو تو ایسی زبان میں بات نہ کیا کرو جس سے اس کے لئے ٹھوکر کا سامان ہو وہ سمجھے کہ مجھے الگ کر دیا گیا ہے اور دل میں رنجش محسوس کرے۔66 آنحضور ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا یہ حضرت ابوذر کی روایت ہے ،مسلم کتاب البر سے لی گئی ہے معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔نیکی نیکی ہی ہوتی ہے چاہے تھوڑی ہی ہو۔امرِ واقعہ یہ ہے کہ کہتے ہیں۔چوری چوری ہی ہوتی ہے۔پنجابی میں کہتے ہیں ” لکھ دی وہ چوری تے لکھ دی وی چوری‘ لاکھ چر او تب بھی چوری لکھ چرا ؤ تب بھی چوری۔چوری چوری ہی ہے۔نیکی کا بھی یہی حال ہے نیکی کا ایک ازلی پیوند خدا تعالیٰ کی ذات سے ہے۔جس نیکی سے بھی آپ پیوند لگا ئیں گے آپ کا تعلق خدا تعالیٰ سے قائم کرنے والی ہو گی۔اسی لئے آنحضور فرماتے ہیں اخلاقی تعلیمات کو معمولی نہ سمجھو۔یہ نیکیاں ہیں۔ان کو اہمیت دو۔یہاں تک فرمایا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنا بھی تو ایک نیکی ہے اور کچھ نہیں ہوتا تو ہنس کر بات کر لیا کرو۔(مسلم کتاب البر والصلۃ ، باب استجاب طلاقته الوجه عند اللقاء) آج کل کے زمانے میں بعض لوگ بڑے فخر سے نئی تہذیب کا یہ محاورہ پیش کرتے ہیں کہ مسکرا کے ملو تمہیں اس کی کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی۔آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت محمدمصطفی امی ہمیں یہ نصیحت فرما چکے ہیں کہ خندہ پیشانی سے ہی پیش آ جاؤ یہ مراد نہیں کہ یہی کافی ہے۔موجودہ نصیحت کہ مسکرا کر ملو تمہیں اس کی کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی۔ایک سرسری اور محض ایک مصنوعی سی نصیحت ہے۔اس میں گہرائی نہیں ہے۔اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ جہاں پیسے دینے پڑیں وہاں بے شک نیکی نہ کرو کیونکہ دلیل یہ قائم کی گئی ہے کہ دوسرے سے مسکرا کر پیش آؤ کیونکہ تمہیں مسکراہٹ کی قیمت نہیں دینی پڑتی۔بصورت دیگر اگر قیمت دینی بھی پڑے تو پھر بے شک نہ مسکراؤ۔اسلامی تعلیم تو بہت گہری ہے اور اس سے بہت زیادہ ہے۔مسکراؤ بھی اور اپنے پہلے سے دو بھی اور قربانیاں بھی کرو۔یہ اسلامی تعلیم ہے مگر اگر کسی وجہ سے تم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا تو کرو کہ خندہ پیشانی سے بھائی سے پیش آؤ۔صلى الله