خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 401
خطبات طاہر جلد 13 401 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء ہیں۔ان کی طرز سے میں سمجھا کہ برے خیال سے کوئی اور مراد ہے۔میں نے کہا خدا تعالیٰ کے متعلق آپ دل میں بدزبانی کرتی ہیں انہوں نے کہا ہاں یہی بات ہے آپ نے بالکل صحیح بات پکڑی ہے۔میں نے کہا کیا اس سے پہلے آپ اپنے ماں باپ یا خاوند کے خلاف ایسے ہی جذبات رکھتی تھیں اور ان کو دبا لیا کرتی تھیں۔ان کا چہرہ کھل گیا جیسے میں ان کے دل کے راز پڑھ کر جس طرح کتاب سنائی جاتی ہے وہ سنا رہا ہوں۔انہوں نے کہا یہی تو بات ہے جو کسی کو پتا نہیں چلتی بالکل اسی طرح واقعہ ہوا ہے۔میں نے کہا اس پر آپ نے اس کو دبایا اور آپ خوف زدہ ہوئیں اور آپ نے کہا دیکھو میرے باپ کا مقام کیا ہے اور میں اس کے متعلق کیا لفظ سوچ رہی ہوں اور ڈر گئیں اور پھر ایک خوف دوسرے خوف میں تبدیل ہونے لگا۔پھر آپ کو اسی سوچ میں خیال آیا کہ اگر میں اللہ کے متعلق ایسا کلمہ کہہ دوں تو پھر کیا ہو گا۔تو یہ آپ کا خوف ہے جو آپ کو ڈرا رہا ہے۔وہ بدی خدا کے متعلق آپ کے دل سے نہیں پھوٹ رہی۔اس لئے آپ اس بات کو بھول جائیں کہ آپ گنہگار ہیں۔اصل میں اس گناہ کی جو کنہ ہے، آغاز ہے وہ نیکی سے شروع ہو رہا ہے اور خوف زدہ ہو کر آپ کو پتا نہیں کہ آپ کیا حرکت کر رہی ہیں اور کس دباؤ کے نیچے ہیں۔ان کو میں نے پیار سے سمجھایا اور میں نے کہا کہ آپ مسلمان تو نہیں لیکن آنحضرت ﷺ کی ایک نصیحت ہے جو شاید آپ کے دل کو تسلی دے سکے۔آپ نے فرمایا میری امت کے ان خیالات کے گناہ اٹھا دئے گئے ہیں جو مجبورا ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں مگر ان پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا ، بے اختیاری کی باتیں ہیں۔میں نے کہا دیکھو ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی یا اللہ نے چودہ سو سال پہلے ایسے تمام نفسیاتی مریضوں کا علاج بھی بیان فرما دیا۔اس کا حل پیش کر دیا۔میری یہ باتیں سن کر ان کو اتنا اطمینان نصیب ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آج تک نہ کبھی کسی ڈاکٹر سے یہ بات مجھے ملی نہ کسی بزرگ سے یہ بات سمجھ آئی۔آج پہلی دفعہ میرے دل کو ٹھنڈ پڑی ہے ورنہ میرا دل چاہتا تھا کہ میں خود کشی کر کے مر جاؤں اور بعینہ یہی بات تھی۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نصائح زندگی کے ہر حصے پر چھائی ہوئی ہیں۔ہر نفسیاتی بیماری سے تعلق رکھتی ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان باتوں میں بھی جو دلوں میں پوشیدہ ہیں محمد رسول اللہ ﷺ پہلے ہی جواب دے رہے ہیں گویا تمام دنیا میں لوگوں کے دلوں پر نظر ہے حالانکہ عالم الغیب نہیں مگر عالم الغیب سے ایسا گہرا تعلق ہے کہ اس سے ایک روشنی پائی ہے اور وہ روشنی تمام