خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 34
خطبات طاہر جلد 13 34 == خطبہ جمعہ فرموده 14 / جنوری 1994ء اللہ سلام ہے۔اللہ سے سلام پانے کے بعد آپ دوسروں کو سلام کہہ سکتے ہیں اس کے بغیر نہیں۔وَمِنْكَ السَّلام اور تجھ ہی سے سلام نصیب ہو سکتا ہے۔پس وہ لوگ جو عبادت سے غافل ہیں وہ دنیا میں ہزار سلام کرتے پھریں ان کے سلام کا کوئی بھی معنی نہیں۔محض جھوٹ ہے۔کیونکہ دنیا سوائے اللہ والوں کے کسی سے امن میں نہیں ہے یہ محض واہمہ ہے۔یہ خیال کر لینا کہ انسان کسی بے خدا انسان سے امن میں رہ سکتا ہے حماقت ہے۔امن اللہ سے نصیب ہوتا ہے اور یہ ایسا امن ہے جو نصیب ہونے کے بعد دوسروں کو عطا ہوتا ہے اور آگے اس کے سلسلے چلتے ہیں۔پس السلام علیکم کی کیسی حکمت ہمیں سمجھا دی کہ جب تم نماز سے سلام کہہ کر فارغ ہو تو پھر سوچا کرو۔غور کیا کرو کہ تم سلام کے مجاز ، خدا کی طرف سے بنائے گئے ہو۔اللہ کے پاس آئے تھے تو سلام نصیب ہوا اور اللہ کے ساتھ رہو گے تو سلام نصیب رہے گا۔جب تعلق تو ڑو گے سلام تم سے خالی ہو جائے گا۔کیونکہ خدا کی ذات کے سوا کہیں اور کوئی سلام کا وجود نہیں۔مسجد میں عام حالت میں داخل ہونے کی دعا یہ تھی ـ بِسْمِ اللَّهِ وَالصَّلوة والسَّلام عَلَى رَسُول الله اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِى وافتح لِي اَبْوَابَ رَحْمَتِكَ۔(ابن ماجہ کتاب المساجد ) کہ میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں و الصلوة والسلام اور درود اور سلام اس کے رسول پر ہوں اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِی، میرے اللہ ! میرے گناہ بخش دے وافتح لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ اور میرے لئے اپنی رحمت کے باب کھول دے۔پھر مسجد سے باہر نکلنے کی دعا انہی الفاظ میں تھی صرف ایک چھوٹے فرق کے ساتھ بسم الله والصلواة والسلام على رسول الله الله کے نام کے ساتھ ، تمام درود و سلام ہوں اللہ کے رسول پر اللهُمَّ اغْفِرُ لِي ذُنُوبِی میرے الله میرے گناہ بخش دے۔وافتح لی ابواب فضلک اور میرے لئے اپنے فضلوں کے دروازے کھول دے۔یہ جو لفظ رحمت اور فضل کا فرق ہے اس میں بڑی وجہ یہ ہے کہ رحمت خالصہ اللہ سے آسمان سے نازل ہوتی ہے اور اس کا ہمارے اکتساب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔رحمت بن مانگے دینے والا عطا کرتا ہے۔رحمن، رحیم خدا سے اترتی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں رحمت کا بنیادی مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا سے حاصل ہوتی ہے اس کا روز مرہ کی زندگی کی محنتوں سے کوئی تعلق نہیں۔فضل خدا