خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 35

خطبات طاہر جلد 13 35 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 جنوری 1994ء کی طرف سے ملتا ہے لیکن روز مرہ کی زندگی کی محنتوں سے تعلق رکھتا ہے چنانچہ سورۃ جمعہ میں جمع کے بعد جب انتشار کا حکم فرمایا: وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الجمعہ ) کہ تم پھر آزادی کے ساتھ زمین میں پھر واور فضل کماؤ تو فضل کا دنیا کی کمائیوں سے ایک تعلق ہے اور دنیا کی دولت جو پاک حالت میں کمائی جائے اس کو بھی فضل کہتے ہیں۔يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا اللہ سے وہ فضل بھی چاہتے ہیں اور اس کی رضا بھی چاہتے ہیں۔تو اندر جاتے وقت خالص رحمت ہی ہے جو کچھ اس ڈر سے ملے گا آسمان سے اترے گا اور بطور رحمت آپ پر نازل ہوگا جب باہر نکلیں گے تو اللہ سے فضل چاہیں گے یعنی ہمارے کاموں میں برکت ملے ہمارے رزق میں برکت ملے۔جو ہمیں نصیب ہو با فراغت ہو اور پاکیزہ ہو۔تجھ سے پانے والے ہوں شیطان سے پانے والے نہ ہوں۔پھر گھر میں داخل ہوتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِج وَخَيْرَ الْمَخْرِجُ بِسْمِ اللهِ وَلَجْنَا وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا۔(ابودا و دکتاب الادب) اے میرے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں خَيْرَ الْمَوْلِج بہترین داخل ہونا وَخَيْرَ المَخْرِج اور بہترین نکلنا یعنی اس گھر میں بہترین طریق پر داخل ہوں، خیر کے ساتھ بھلائی کے ساتھ داخل ہوں اور بھلائی کے ساتھ نکلوں۔بسم اللهِ وَلَجْنَا وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا۔اللہ ہی کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوتے ہیں اور اسی پر جو ہمارا رب ہے ہم تو کل کرتے ہیں۔پھر گھر سے باہر نکلتے وقت بھی خدا یاد آتا تھا۔کوئی زندگی کا ایسا مشغلہ نہیں، کوئی ایک زندگی کی حرکت ایسی نہیں جو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف ہو جس میں حضرت محمد مصطفی ذکر سے خالی ہوں۔تبھی اللہ نے آپ کو ذِكْرًا رَّسُوْلًا (الطلاق: 11) فرمایا کہ یہ تو رسول وہ ہے جو مجسم ذکر ہے اس میں اور ذکر میں کوئی فرق نہیں رہا۔محمد اور ذکر ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں۔ہر کیفیت سے ہر دوسری کیفیت میں داخل ہوتے وقت ذکر الہی جاری رہتا تھا۔ہر موسم میں ذکر۔بارش کا قطرہ آسمان سے اتر تا دیکھتے تھے تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے اپنی زبان آگے بڑھا دیا کرتے تھے کہ اللہ کی رحمت کا یہ قطرہ میری زبان پر پڑے۔اتنی محبت تھی۔ایسا عشق تھا کہ کفار مکہ اپنی تمام تر دشمنیوں کے باوجود یہ کہنے پر مجبور ہو گئے