خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 393
خطبات طاہر جلد 13 393 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء ہیں۔پس ان نصیحتوں کو ہر بازار میں اپنے ساتھ اپنی حرز جان بنا کر ساتھ لے جایا کریں اور ان پر عمل کیا کریں۔ایک روایت ہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو بخاری سے لی گئی ہے اور پہلی روایت بھی بخاری سے لی گئی تھی۔ایک آدمی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کون سا اسلام افضل اور بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا کھانا کھلانا اور ہر ملنے والے کو خواہ جان پہچان ہو یا نہ ہو صلى الله سلام کہنا۔( بخاری کتاب الاستیذان ،حدیث نمبر : 5767) آنحضور ﷺ سے ایک ہی سوال جب مختلف وقتوں میں کیا جاتا تھا اور سوال کرنے والا ایک خاص کر دار کا مالک ہوتا تھا تو آنحضرت ﷺ اس ایک ہی سوال کے مختلف جواب دیا کرتے تھے اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے کلام میں کوئی تضاد ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پوچھنے والے کو اس کے موقع اور محل کے مطابق کا جواب دیا جائے۔ایک ایسا آدمی آیا جو اپنی ماں سے حسن سلوک نہیں کرتا تھا یا اس کا حق ادا نہیں کرتا تھا۔اس کو فرمایا کہ ماں کی خدمت سب سے بڑا جہاد ہے اور ایک اور موقع پر جہاد کی دوسری تعریف فرما دی۔چنانچہ حسب حال نصیحت فرمانا بھی سنت ہے۔جب آپ نیک نصیحت کریں گے اور بری باتوں سے روکیں گے تو اس وقت بھی اس طر ز محمد مصطفی ﷺ کو پیش نظر رکھیں کہ یونہی آنکھیں بند کر کے ہر اچھی بات کرتے چلے جانا، ہر بری بات سے روکنا یہ مراد نہیں ہے۔موقع اور محل دیکھ کر ایسی نصیحت کریں جو جس کو سنائی جائے اس سے تعلق رکھتی ہو اور اسے فائدہ پہنچانے والی ہو۔پس آنحضور ﷺ نے فرمایا کھانا کھلانا سب سے افضل کام ہے حالانکہ بہت سی دوسری احادیث میں مختلف کام ہیں جو افضل بتائے گئے ہیں اور ایک افضل کا مطلب ہے جو سب سے اچھا ہو تو دوسرا افضل اس سے مختلف کیسے ہو سکتا ہے۔یہ وہ سوال ہے جس کا میں آپ کو جواب سمجھا رہا ہوں۔ہر شخص کے نقطہ نگاہ سے اس کے حالات پر چسپاں ہونے والا افضل اپنے معنے بدلتا رہتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا شخص آپ کے پیش نظر ہو جو کنجوس ہو ، جو مہمان نوازی میں کمزور ہو تو اس کو یہ نصیحت فرمائی کہ سب سے افضل اسلام یہ ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلایا کرو اور پھر دوسری نصیحت یہ فرمائی کہ ہر ملنے والے کو خواہ جان پہچان نہ ہو سلام کہا کرو۔یہ بھی میرے نزدیک اسی مزاج کے ساتھ تعلق رکھنے والی بات ہے۔جو شخص فطرتا خسیس ہو اور لوگوں تک اپنا فیض آگے بڑھ کر نہ پہنچائے وہ بے وجہ ہر شخص کو سلام