خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد 13 391 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء حضرت اقدس محمد مصطفی صل اللہ چھوٹی چھوٹی، پیاری پیاری باتوں میں نصیحت فرماتے ہیں اور ہر نصیحت کے پیچھے ایک عرفان کا خزانہ ہے۔اس پر آپ غور کریں اور روز مرہ کی زندگی میں اس کا آپ اطلاق کر کے دیکھیں تو پتا چلے گا کہ قوموں کی اجتماعیت کو قائم رکھنے کے لئے یہ بظاہر چھوٹی دکھائی دینے والی نصیحتیں کتنی عظمت رکھتی ہیں۔کوئی زندگی کا ایسا گوشہ نہیں جس پر آنحضرت نے نصیحت نہ فرمائی ہو۔نہ گھر کے حالات ایسے ہیں جن پر آپ کی نظر نہ گئی ہو، نہ بازار کے حالات ہے جن پر آپ کی نظر نہ گئی ہو، نہ امن کے حالات ہیں، نہ جنگ کے حالات ہیں۔نہ دن کے نہ رات کے، کوئی لمحہ وقت کا ایسا نہیں، کوئی انسانی مصروفیت ایسی نہیں، جس کے ساتھ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نصیحتوں کا تعلق نہ ہو گویا کہ ایسا نور ہے جو انسانی ضروریات کے ہر گوشے پر پڑ رہا ہے، ہر حصے کو منور کر رہا ہے۔پس اس پہلو سے ان تمام نصیحتوں پر نظر رکھنا آپ کی اخلاقی قدروں کو قائم کرنے کے لئے اور اعلیٰ سطح پر بلند ر کھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا۔تم رستوں میں بیٹھنے سے بچو۔صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ﷺ ہم وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔مراد یہ تھی کہ امراء تو ایسے ہوتے ہوں گے جن کے پاس احاطے ہیں۔بعض زمیندار ہیں جن کے پاس ڈیرے ہوتے ہیں، تو غریب بے چارے کہاں جائیں۔ان کے لئے تو یہی ممکن ہے کہ بازار میں نکلیں سڑکوں پر کسی جگہ بیٹھ رہیں اور وہیں مجلس لگالیں تو انہوں نے ایک جائز عذر پیش کیا کہ یا رسول اللہ ہے پھر ہم کیا کریں، کہاں جائیں۔ہمارے تو گھر بھی چھوٹے چھوٹے۔ان میں بھی لوگوں کو نہیں بلا سکتے تو مجلسیں کہاں کریں۔حضور اکرمﷺ نے فرمایا جب تم وہاں بیٹھنے پر مجبور اور مصر ہو یعنی مجبوری کو قبول فرمالیا اور فرمایا تم اصرار بھی کر رہے ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دیا کرو۔مفت میں نہ بیٹھو اس کی قیمت ادا کرو۔انہوں نے عرض کیا کہ راستے کا حق کیا ہے یا رسول اللہ ﷺ۔تو آپ نے فرمایا نظریں نیچی رکھنا ، دکھ دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، نیک بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔( بخاری کتاب الاستیذان حدیث نمبر : 5760)۔اب اگر ایسے لوگ بازاروں میں بیٹھے ہوں اور رستے میں بیٹھے ہوں تو ان رستوں کے لئے تو