خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 387
387 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء خطبات طاہر جلد 13 جس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر کتاب اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا جاتا ہے وہ بھی حبل اللہ ہے اور حبل اللہ ہی کی ایک دوسری صورت ہے۔پس اس پہلو سے میں پھر اسی بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ حبل اللہ سے مراد قرآن کریم بھی ہے۔قرآن کریم اول طور پر ان معنوں میں کہ قرآن کے نزول سے ہی محمد مصطفیٰ کا وجود ظہور میں آتا ہے۔اسی لئے کتابوں پر ایمان پہلے رکھا گیا ہے اور انبیاء پر ایمان اس کے بعد رکھا گیا ہے۔کتاب نبی بناتی ہے اور کتاب ہی سے نبی بنتا ہے مگر اس نبی کو نظر انداز کر کے محض کتاب پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش ایک شیطانی کوشش ہے، نفس کا دھوکہ ہے۔حقیقت میں خواہ وہ قرآن ہو یا تو رات ہو یا انجیل یا کوئی اور نام اس کتاب کا رکھ لیجئے جب تک اس نبی کے ساتھ تعلق نہ باندھا جائے جس پر کتاب نازل ہوئی ہے اور سلسلہ وار اس تعلق کو آگے بڑھایا نہ جائے اس وقت تک حقیقت میں حبل اللہ کو تھامنے کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔قرآن کی زندہ مثال حضرت محمد مصطفی ملے تھے اور آپ ہی کی زبان سے ہم نے قرآن کو سمجھا اور آپ ہی کی ذات میں قرآن جلوہ گر دیکھا۔آپ کی ذات میں قرآن کریم چمکا ہے اور اس کے مضامین روشن ہو کر ہمارے سامنے ایک زندہ وجود کے طور پر آئے ہیں اور آپ کے بعد یہی سلسلہ خلافت کے ذریعے آگے جاری ہوا۔پھر مجددیت کے ذریعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچا۔پس یہ سارا سلسلہ ہے کوئی الگ سلسلہ وہی حبل اللہ کا سلسلہ نہیں۔پس اس سلسلے کو مضبوطی سے تھام لیں۔یہی وہ مضمون ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔اگر اس کو مضبوطی سے تھام لیں گے تو اس کا پہلا اثر اور پہلا فیض آپ یہ دیکھیں گے کہ آپ اکٹھے ہو گئے ہیں۔آپ کے بٹے ہوئے دل جو قریب تھا کہ آپ کو لے کر آگ میں جا پڑتے ، وہ بٹے ہوئے دل مجتمع ہوئے۔خدا تعالیٰ نے ان کو آپس میں باندھ دیا اور اس باندھنے کے ذریعے پھر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ آپ پھر منتشر ہونے کی بجائے مجتمع ہوئے اور ایک ملت واحدہ کے طور پر آپ کا وجود ابھرا۔یہ ہے حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامنا اور اس کی ظاہری علامت جو دنیا میں دکھائی دینے لگتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے لفظ ” نعمت کو استعمال فرمایا ہے۔فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ