خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 377
خطبات طاہر جلد 13 377 خطبه جمعه فرمودہ 20 مئی 1994ء گھروں میں تنگی ہونے کے باوجود، اپنے مہمان نوازوں سے عزت افزائی سے پیش آتے ہیں اور مسکینوں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور اسیروں سے بھی۔ تو قرآن کریم نے یہ تمام مضامین کھول دیئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک معزز مہمان آپ کے پاس آیا اور آپ مہمان نوازی کر رہے ہیں۔ اگر ایک برابر کا مہمان آیا ہے اور آپ اس کی مہمان نوازی کر رہے ہیں تو اس آیت کے اثر سے وہ باہر ہے۔ اس کا اس آیت میں کوئی ذکر نہیں کیونکہ یہ شروع ہوتی ہے مسکین کے ذکر سے، یتیم کے ذکر سے اور قیدی کے ذکر سے، قیدی تو آپ کے پاس نہیں آ سکتا مگر آپ قیدی کے پاس پہنچ سکتے ہیں اگر قیدی کے پاس کچھ کھانا لے کر جاتے ہیں۔ کچھ نعمت لے کر اس کے پاس پہنتے ہیں کہ مجھے خیال آیا کہ یہاں کی گندی خوراک کھا کھا کر تم تنگ آگئے ہو گے تو کچھ اس میں سے بھی چکھو اور خدا کی خاطر ایسا کر رہے ہیں ورنہ ہم تو تمہیں جانتے بھی نہیں ، شکر یہ بھی ادا نہ کرنے دیں اس کو ۔ تو یہ وہ مہمان نوازی ہے جو اس آیت کے تابع ہوگی۔ پھر آپ ایک یتیم کی پرورش کرتے ہیں ، اس پر نظر ڈالتے ہیں، باپ کے پیار سے جو محروم ہے اس کو کئی قسم کے دکھ ہوتے ہیں جب تک آپ توجہ سے نہیں دیکھیں گے آپ کو دکھائی نہیں دے سکتے ۔ یہ آپ کے سامنے پیش ہی نہیں ہوں گے۔ تو یتیموں کی پرورش کرنا ، ان کی خاطر کرنا، یہ بھی بہت ہی بڑا خلق ہے اور پھر وہ مہمان جو عام سادہ ساغریب سا مہمان ہے آپ کے گھر چلا آیا ہے۔ وہاں آپ کے خلق کا امتحان ہوتا ہے اگر اسے آپ نیچے کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں لو جی فلاں صاحب آگئے ہیں اس کو روٹی ڈالو، اس قصے کو ختم کرو تو یہ بد خلقی گناہ بن جائے گی۔ ظاہری طور پر جو مہمان نوازی ہے یہ مہمان نوازی نہیں ہو گی بلکہ آپ کے گنا ہوں کے کھاتے میں یہ عمل لکھا جائے گا۔ صلى الله پس آنحضرت ا جس مہمان نوازی کی بات فرما رہے ہیں وہ ایسا خلق عظیم ہے جس کا انسان کے تعلقات کے دائرے سے تعلق نہیں ، اس کا خدا کے بندوں کے تعلقات کے دائرے سے تعلق ہے۔ اللہ کے تعلقات عالم پر جہاں محیط ہیں وہاں آپ کے تعلقات بھی محیط ہونے لگتے ہیں، وہاں تک پھیلتے ہیں، وہاں تک ان تعلقات کی رسائی ہوتی ہے، وہ رنگ اختیار کر جاتے ہیں تو پھر یہ مضمون جو اس آیت نے بیان فرمایا ہے وہ آپ کی ذات پر اطلاق پانے لگتا ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس مضمون کو ایک بہت ہی پیاری روایت کے طور پر بیان فرمایا۔ ایک موقعہ پر ایک