خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 374
خطبات طاہر جلد 13 374 خطبہ جمعہ فرموده 20 رمئی 1994ء چاہئے اور ہمسائیگی کے حقوق کا مضمون بہت ہی اہم ہے۔میں نے پچھلی دفعہ بھی نصیحت کی تھی کہ یورپ میں بھی اگر آپ نے تبلیغ کرنی ہے تو ہمسائیگی کے حقوق کے ذریعہ یہ سفر شروع کریں اور وہ مضمون یا درکھیں کہ محض ہمسایوں کو بار بار سلام کرنا اور باتیں کرنے کے لئے ٹھہر الینا یہ فائدہ نہیں دے گا بلکہ الٹا نقصان پہنچائے گا۔یہی نصیحت ہے جو کام آ سکتی ہے کئی دفعہ انسان سامنے نہ آئے تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ایک تحفہ بھیج دے اور پھر تحفہ بھیج دے یہاں تک کہ لینے والے کے دل میں کرید ہو کہ یہ ہے کون جو مجھ سے بار بار اس طرح کا احسان کا سلوک کر رہا ہے۔آپ اس کی تلاش کو نہیں نکلیں گے وہ آپ کی تلاش کو نکلے گا اور اس طرح یہ جو ظاہری نعمت ہے یہ ایک باطنی نعمت میں تبدیل ہونے لگ جائے گی۔آپ محض ظاہری تحائف ہی نہیں دیں گے بلکہ روحانی تحائف کے لئے اس کے دل کو قبولیت کے لئے آمادہ کر دیں گے۔پس نیک ہمسائیگی ایک بہت ہی بڑا خلق ہے اور اس کو اختیار کرنے سے انسان کئی قسم کی بدیوں سے بچ سکتا ہے اور کئی قسم کی نعمتوں کو پالیتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یعنی سچا مومن ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اپنے مہمان کا احترام کرے۔جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ بھلائی اور نیکی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔( بخاری کتاب الاحرب حدیث : 5559) یہ تین نصیحتیں آپ نے اللہ اور آخرت کے حوالے سے کی ہیں۔بیچ کی باتیں بیان نہیں فرمائیں۔جوارکانِ اسلام پر ایمان رکھتا ہے۔جو رسولوں پر ایمان رکھتا ہے، جو کتابوں پر ایمان رکھتا ہے، یہ ساری باتیں چھوڑ دی ہیں۔آغاز بیان فرمایا ہے اور انجام بیان فرمایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے آغاز کی طرف اشارہ ہے۔اللہ ہی سب نعمتوں کا دینے والا ہے اور اللہ ہی سے انسان کو ہر عطا نصیب ہوتی ہے۔خواہ اس کی آنکھیں ہوں، ناک، کان ہوں، صحت ہو، جو کچھ بھی اس کو میسر ہے یا اس کا رزق ہو یا اور کئی قسم کی نعمتیں جو ا سے آئے دن خدا کی طرف سے میسر ہوتی ہیں اور وہ ان کو دیکھتا بھی نہیں اور سوچتا بھی نہیں اس کو پتا بھی نہیں کہ وہ بعض نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔تو فرمایا جو اللہ پر یقین رکھتا ہے یعنی اللہ کے ابتدائے آفرینش سے انسان کی خاطر جو احسانات شروع ہوتے ہیں ان پر نگاہ رکھتا ہے اور پھر یوم آخرت پر جو انجام ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک رشتہ ہے جس کی طرف